انسانی پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 21:10 GMT 02:10 PST

پاکستان کا سب سے بڑا پرچم بنانے کا ریکارڈ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں طلبہ نے سب سے بڑا انسانی قومی پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

گنیز بک کے نمائندے نے انسانی پرچم کے حوالے سے نیا ریکارڈ بننے کی تصدیق کی۔

یہ عالمی ریکارڈ لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں ہونے والے پنجاب یوتھ فیسٹیول میں مختلف سکولوں کے بچوں نے بنایا۔ یوتھ فیسٹیول میں اب گیارہ عالمی ریکاڈر قائم کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

پیر کی رات چوبیس ہزار دو سو طلبہ نے انسانی پرچم بنایا اور دس منٹ تک اس کو برقرار کررکھا۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمائندے گیرتھ ڈیوز نے انسانی قومی پرچم بنانے کے عالمی ریکارڈ بننے کا اعلان کیا اور اس ضمن میں مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز شریف کو نیا عالمی ریکارڈ قائم ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا۔

اس سے پہلے اکیس ہزار سے زائد افراد نے سنہ دو ہزار سات میں ہانگ گانگ میں سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

سکول کے بچوں نے سب سے بڑی تصویر ’موزیک‘ بنانے کا بھی عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ گنیز بک کے نمائندے کے مطابق انیس سو سے زائد بچوں نے شاہی قلعہ کی تصویر بنائی اور اس کو دس منٹ تک برقرار رکھ کر امریکہ میں بننے والے عالمی ریکارڈ توڑا۔

پنجاب یوتھ فیسٹیول کے افتتاحی دن بیالیس ہزار آٹھ سو انیس افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھ کر نیا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

اس سے قبل بیک وقت ہزاروں افراد کا قومی ترانے پڑھنے کا اعزاز بھارت کے پاس تھا جو اس سال جنوری میں پندرہ ہزار سے زائد لوگوں نے مل کر قومی ترانہ پڑھ کر قائم کیا تھا۔

وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے بھی فیسٹیول کے افتتاحی دن اپنی مختصر تقریر کا اختتام پاکستانی فلم کا گانا ترنم کے ساتھ گایا اور اس طرح وہ ملک کے پہلے وزیر اعلیْ بن گئے جنہوں نے عوامی اجتماع میں فلمی گیت گنگنایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے اپنے دور کی مشہور پاکستانی فلم ’ارمان‘ کا گانا ’اکیلے نہ جانے ہم چھوڑ کر‘ ترنم کے ساتھ گنگنایا۔

یوتھ فیسٹیول میں عالمی ریکارڈ تورنے اور نئے ریکارڈ بنانے کا آئیڈیا ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمد خان کا تھااور ان کے بقول فیسٹیول کے ذریعے پاکستان کے ’سوفٹ امیج‘ کو اجاگر کرنے کے لیے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کیا۔

رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ گنیز بک کے حکام کی حامی بھرنے کے بعد شہریوں سے یہ رائے لی گئی کہ کن کن شعبوں میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

یوتھ فیسٹیول کے دوران بارہ سالہ مہلک گل نے شطرنج کی بساط پینتالیس سیکنڈز میں بچھاکر نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ مہک گل نے اپنی کامیابی کو ملالہ یوسف زئی کے نام کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس کے علاوہ جلیل الحسن نے ایک منٹ اور آٹھ سیکنڈز میں مکمل کرکٹ کٹ پہننے کا ریکارڈ بنایا۔

فیسٹیول میں فٹ بال کا ہیڈ پاس کرنے کا بھی نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور متواتر تیس سو پینتیس مرتبہ فٹ بال کا ہیڈ پاس کیا۔

محمد رفیق اور شیزاز نے تیز رفتار مینڈک چھلانگ لگانے کا بھی ریکارڈ بنایا۔ دونوں نوجوانوں نے تیس سیکنڈز میں چونتیس مرتبہ چھلانگ لگائی۔

فیصل آباد کے محمد صدی نے اپنے مونچھوں سے ٹرک کچھنے کی کوشش کی اور سترہ کلو گرام وزنی ٹرک کو چھ میٹر سے زیادہ فاصلے تک کچھنا۔

محمد منشاء نے تیز رفتار روٹیاں لگانے کا ریکارڈ بنایا۔ انہوں نے تین منٹ چودہ سیکنڈز میں تین روٹیاں لگائیں جبکہ محمد نعمان نے چالیس سیکنڈز سے بھی کم وقت میں بجلی کی تار پلگ میں لگانے کا بھی ریکارڈ بنایا۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔