سپریم کورٹ کا حکم، احترام بھی، تحفظات بھی

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 21:17 GMT 02:17 PST

شریف برادران پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا الزام ہے

اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ مختصر حکم کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے ظاہر کردہ رد عمل کے بعد پاکستان کی سیاست میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا کہ کشیدگی بڑھے گی اور اس کے اثرات آئندہ عام انتخابات پر بھی پڑیں گے۔

گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت اعظمیٰ کے کسی فیصلے سے براہ راست مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوئی ہے۔ تاحال مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف رہا ہے کہ سپریم کورٹ کاجو بھی فیصلا ہو اس پر من و عن عمل ہونا چاہیے اور اس سے ہی قانون کی عملداری قائم ہوگی۔

لیکن اصغر خان کیس میں آنے والے فیصلے کے بارے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز جو دو ٹوک بات کہی ہے کہ وہ عدالتی حکم کا احترام کرتے ہیں لیکن انہیں اس حکم پر تحفظات بھی ہیں۔

ان کے بقول انیس سو نوے میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) بناتے وقت آئی ایس آئی نے کروڑوں روپے جو سیاستدانوں میں تقسیم کیے تھے اس میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو رقم ملنے کی تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے کرانے کا عدالتی حکم انہیں قبول نہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تحقیقات عدالتی کمیشن کرے۔

حالانکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے جو بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا اس میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مرحوم پیر پگاڑہ، غلام مصطفیٰ جتوئی، میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت متعدد سیاستدانوں میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر رقوم تقسیم کی تھیں تاکہ پیپلز پارٹی کا راستہ روک کر ’آئی جے آئی‘ کو جتوایا جائے۔

اگر عدالت اعظمیٰ چاہتی تو میاں نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو بلا کر ان کا موقف معلوم کرکے اُسے ریکارڈ کا حصہ بناسکتی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر عدلیہ نے ایسا نہیں کیا۔ اگر عدالت چاہتی تو ’میمو سکینڈل‘ کی طرح اسد درانی کے بیان حلفی کے بنیاد پر عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دے سکتی تھی لیکن انہوں نے اصغر خان کیس میں ایسا نہیں کیا۔

گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی کسی جماعت کے خلاف عدالت اعظمیٰ کا کوئی فیصلہ آیا ہے۔ حالانکہ جعلی ڈگریوں کا معاملا ہو یا دوہری شہریت کا اس میں عدالتی احکامات کی وجہ سے کم و بیش تمام جماعتیں متاثر ہوئیں اور انہوں نے عدالتی احکامات پر سرِ تسلیم خم کیا۔ لیکن اب جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر انگلی اٹھی ہے تو وہی جماعت عدالتی فیصلے پر خوش نہیں اور جس انداز میں انہوں نے رد عمل دیا ہے وہ بظاہر ’ڈکٹیشن‘ لگتی ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی اصغر خان کیس کے عدالتی فیصلے پر خوش ہے اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالتی حکم پر عمل کرنے اور آئی ایس آئی کے ذریعے بانٹی گئی رقم کی پائی پائی وصول کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن تاحال حکومت نے عدالتی حکم کے مطابق تحقیقات کے لیے کوئی ٹیم نہیں بنائی۔ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ حکومت کو تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے عدالتی حکم پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے پاکستان کی دو بڑی جماعتوں میں کھینچا تانی بڑھے گی اور اس کی وجہ سے سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایسے میں حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھائے اور مسلم لیگ (ن) جو پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے اُسے مزید سیاسی طور پر تنگ کرے۔ اگر حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے تو اس سے مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں اتحاد بھی ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں پر انیس سو نوے میں آئی ایس آئی سے پیسے لینے الزام ہے۔

اصغر خان کیس میں عدالتی حکم کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی ساکھ کو بہت زیادہ دھچکہ پہنچا ہے جس کے خمیازہ انہیں آئندہ انتخابات میں بھگتنا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ اب تک مسلم لیگ (ن) نے س طرح آئی ایس آئی سے پیسے لینے کی تردید کی ہے اس سے ان کا موقف مبہم نظر آتا ہے۔

جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جس طرح رواں سال مارچ میں یونس حبیب نے بیان دیا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کے لاہور والی رہائش گاہ پر بنفس نفیس انہیں پینتیس لاکھ روپے دیے اور بعد میں پچیس لاکھ روپے میاں شہباز شریف کو ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے علحدہ بھیجے، اس کے بعد یونس حبیب کے خلاف ہر جانے کا دعویٰ داخل کرنے کے اعلانات کے باوجود تاحال مسلم لیگ (ن) نے کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کتنا جلد اور کیسے عدالتی حکم پر عمل کرتی ہے اور عدالت اپنے اس حکم پر عملدرآمد میں کتنی دلچسپی لیتی ہے؟۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔