ہود بھائی: جھگڑا نظریات یا نئے کورس کا

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 14:07 GMT 19:07 PST

ملازمت میں توسیع نہ کئے جانے کی کوئی وجوہ بھی منطق یا دلیل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتی تھی: ڈاکٹر ہود بھائی

پاکستان میں نیوکلیر فزکس کے استاد پی ایچ ڈی ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کو لاہور کی ایک نجی یونیور سٹی نے ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ دسمبر میں ان کے ملازمت کے معاہدے کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

پرویز ہود بھائی نے کہا کہ انہیں مدت ملازمت میں توسیع نہ کئے جانے کی مختلف اوقات میں مختلف وجوہات بتائی گئیں جن میں سے ایک بھی منطق یا دلیل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتی تھی اور ان کا خیال ہے کہ انہیں نظریات کی بنیاد پر یونیورسٹی سے الگ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے سینتس برس اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ملازمت کی تھی اور وہاں سے ریٹائر منٹ کے بعد لاہور میں پاکستان کی معروف یونیورسٹی لمز میں پڑھا رہے تھے۔

ڈاکٹر ہود بھائی کا شمار پاکستان کے بائیں باوز کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے اورمعاشرے میں مذہب کے بارے میں ان کا خاص نقطہ نظر ہے۔

ہود بھائی نے کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کا ایک نیا کورس ’سائنس اور زمانہ جدید کے تقاضے‘ شروع کیا تاکہ سائنس کے طلبہ کو آرٹس اور آرٹس کے طلبہ کو سائنس کے بارے میں معلومات ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹس اور سائنس کے طلبہ کے درمیان ایک بڑی خلیج بن چکی ہے جس کو وہ ختم کرنا چاہتے تھے وہ آرٹس کے طلبہ کو سائنس کے خوبصورت پہلوؤں سے روشناس کرانا چاہتے ہیں اور سائنس کے طلبہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ سائنس نے مغرب میں کیا تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ سائنس کو اگر کھلی چھٹی دی جائے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

ہود بھائی نے کہا کہ اس کورس کو طالب علموں نے پسند کیا اور پہلے سال اس میں اسی فیصد سائنس گروپ کے طالبعلموں نے شرکت کی جبکہ اس بار اسی فیصد آرٹس کے طلبہ و طالبات شامل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کورس میں سیاست پر بھی بات ہوتی ہے اور مختلف مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کی ضرویات پر بات کی گئی اور کہا گیا کہ کوئلہ پانی اور تیل کے ذریعے یہ ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں اور اگر پاکستان میں یہ وسائل موجود ہیں تو ان کا حل کیوں نہیں ڈھونڈا جاتا؟ انہوں نے کہا کہ طالبعلموں کو ان مسائل پر سائنسی نقطہ نظر سے غور کرنے اور فائدے نقصان کو دلیل سے ثابت کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ہود بھائی نے خیال ظاہر کیا کہ یہ سارا جھگڑا اسی کورس کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ لوگوں نے کہا کہ میں ’سائنس اور مذہب‘ کا کورس پڑھاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نظریات کی بنیاد پر ان کی ملازمت ختم کروانے میں کوئی بیرونی ہاتھ نہیں ہے اوریہ یونیورسٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی سنہ انیس سو تہتر میں بیرون ملک میں نیوکلیئر فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پاکستان لوٹ آئے تھے اور تب سے یہیں تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’پڑھانا اچھا لگتا ہے اور وہ پڑھا کر خوش ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں لمز یونیورسٹی سے بہت سی امیدیں ہیں اگر یہاں صرف اور صرف میرٹ کو مدنظر رکھا گیا تو یہ ملک کے لیے مشعل راہ ہوگی لیکن اگر نظریات کا عمل دخل بڑھ گیا تو پھر یہ کامیاب نہ ہو سکے گی۔

لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دیئے جانے کے بارے میں کوئی بیان فی الحال جاری نہیں کیا گیا۔ وائس چانسلر آفس کی ایک خاتون انتظامی افسر نے کہا کہ اس بارے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نجم ہی کوئی بیان جاری کر سکتے ہیں جو ان دنوں بیرون ملک دورے پر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔