سانحہ بلدیہ ٹاؤن، جرمن کمپنی زرتلافی دے گی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 21:03 GMT 02:03 PST

جرمنی کے ایک بڑے کاروباری ادارے نے کراچی کے کارخانے میں آگ لگنے سے جل کر ہلاک ہوجانے والے دو سو چونسٹھ مزدوروں کے لواحقین کو رقم کی ادائیگی کا عندیہ دیا ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق جرمن کاروباری ادارے ’کک‘ کا کہنا ہے کہ وہ بطور ہرجانہ ایک ملین یورو (تقریباً پاکستانی بارہ کروڑ روپے) ادا کرے گی۔

جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فالیہ کے علاقے بونن میں قائم کپڑے کے بڑے کاروباری ادارے ’ کک‘ کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ہرجانے کی رقم ادا کردے گا۔

کک رعایتی نرخوں پر کپڑے فروخت کرتی ہے اور اس کی ایک جینز کی قیمت سولہ یورو کے قریب ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان میں لواحقین اور مزدور تنظیموں (ٹریڈ یونینز) نے اس رقم کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قلیل رقم کو قبول نہیں کریں گے بلکہ جرمن ادارے کے خلاف عالمی سطح پر انصاف کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

کراچی کے بلدیہ ٹاؤن علاقے میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز میں بارہ ستمبر کو بھڑک اٹھنے والی آگ سے جل کر سینکڑوں مزدور ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی پولیس کے سربراہ اقبال محمود نے ہلاکتوں کی کل تعداد اس وقت دو سو چونسٹھ بتائی تھی۔

بعد ازاں مختلف ذرائع نے یہ تعداد دو سو اناسی جبکہ لواحقین اور مزدور تنظیوں کا اب دعویٰ ہے کہ قریباً تین سو اٹھارہ لوگ ہلاک، سو کے قریب زخمی اور بہت سے بیروزگار بھی ہوئے تھے۔

پاکستان میں مزدور تنظیموں کے اتحاد نیشنل ٹریڈ یونینز فیڈریشنز کے سربراہ ناصر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم، لواحقین، زخمی ہونے والے محنت کش اور بیروزگار ہوجانے والے کارکنوں سمیت کوئی بھی اس کم رقم کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔

ناصر محمود کے مطابق عالمی تخمینہ یہ ہے کہ ایک محنت کش ماہوار ایک سو اسّی امریکی ڈالر کے مساوی رقم کماتا ہے۔ جو لوگ ہلاک ہوئے وہ پچییس تیس برس سے زیادہ عمر کے نہیں تھے۔ اس لحاظ سے وہ ابھی پچیس برس اور کام کر سکتے تھے۔ اب ان کا معاوضہ کتنا ہونا چاہیے آپ خود اندازہ لگا لیں۔

بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کے یہ مزدور جرمن ادارے کک کی ’او کے‘ برینڈ کی جینز بناتے تھے اور مزدور رہنماؤں کے مطابق نوے فیصد پیداوار علی انٹر پرائزز میں ہوتی تھی۔

جبکہ جرمن ذرائع کے مطابق کک کے انتظامی سربراہ مائیکل اریٹز نے تسلیم کیا ہے کہ ادارے کی پچھہتّر فیصد پیداوار یہاں ہوتی تھی۔

مزدور رہنما ناصر محمود کے مطابق اب جرمن ادارہ ایک ملیئن یورو پانچ پانچ لاکھ کرکے دو قسطوں میں امداد کے طور پر ادا کرنا چاہتا ہے جبکہ امداد تو سرکاری یا غیر سرکاری ادارے دیں گے، مالکان اور انتظامیہ کو تو ازالے یا ہرجانے کی بروقت ادائیگی کرنی چاہیے۔ ’یہ ہمدردی کا معاملہ نہیں، اس معاملے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے، آگ لگنے سے مزدور ہلاک ہوئے ہیں ہرجانے ادا کیا جائے۔۔۔‘

ناصر محمود نے بتایا کہ انہوں نے ایمسٹرڈم میں قائم عالمی ادارے کلین کلوتھ کیمپین (سی سی سی) کے ساتھ ملک کر حساب لگایا ہے اور ابھی ابتدائی طور پر اندازہ یہی ہے کہ یہ رقم تقریباً بیس لاکھ یورو بنتی ہے۔ اس واقعے میں ہماری تحقیقات کے مطابق تین سو اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے، اکسٹھ لاشیں لواحقین کو نہیں ملیں، دو سو پچیس ہلاک شدگان کی فہرست نام پتوں کے ساتھ ہمارے پاس ہے، اٹھائیس لاشیں اب بھی سرد خانوں میں ہیں ڈی این اے ٹیسٹ ابھی ہوئے نہیں ہیں۔

علی انٹر پرائز میں لگنے والی آگ سے ملازمین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے حکومت پاکستان نے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس قربان علوی کی سربراہی میں ٹربیونل قائم کر رکھا ہے اور قریباً سو افراد کے لواحقین کو سات سے آٹھ لاکھ روپے تک امداد کی ادائیگی کے اعلانات بھی کئے گئے ہیں مگر بعض لواحقین شکایت کرتے ہیں کہ انہیں نوکر شاہی کی روایتی سست روی کا سامنا ہے اور اب تک امدادی رقم نہیں مل سکی۔

مزدور رہنما ناصر محمود نے بتایا کہ ان کی تنظیم، لواحقین اور عالمی ادارے مل کر اس معاملے میں ایک قومی کمیٹی کی تشکیل کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاہد جیسے افراد سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں تاکہ انہیں کمیشن میں شامل کیا جاسکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔