بلٹ پروف بسیں خریدنے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 23:24 GMT 04:24 PST

پاکستان میں کرکٹ حکام کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ کرنے اور ان کے سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے بلٹ پروف بسیں خریدے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ’ہائی سکیورٹی‘ یا انتہائی محفوظ سٹیڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی بنا گیا ہے جس میں کھلاڑیوں کی رہائش کا انتظام بھی ہو گا۔

پاکستان میں سنہ دو ہزار نو میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے کسی غیر ملکی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

لاہور میں ہونے والے اس حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے میں کئی سری لنکن کھلاڑی زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے تمام کرکٹ میچ جو ملک کے اندر کھیلے جانے تھے دبئی اور ابو اظہبی میں کھیلے ہیں۔

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نے اس سال اپریل میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن وہ آخری لمحات پر منسوخ کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے شہر کراچی میں سنہ دو ہزار نو کے بعد سے بڑا کرکٹ ایونٹ منعقد ہوا۔ اس دوران دو میچ کھیلے گئے جس میں جنوبی افریقہ، سری لنکا، بنگالہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے حکام اس میچ کے بعد اب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اگلے سال کے اوائل میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ میچ کرانا چاہتا ہے۔

پاکستان دورہ کرنے والی غیر ملکی ٹیموں کو پورے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بورڈ نے متفقہ طور پر بلٹ پروف بسیں خریدنے کی منظوری دی۔

پاکستا کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں مجوزہ کرکٹ سٹیڈیم میں پچاس ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ ملک کا سب سے بڑا سٹیڈیم ہوگا۔

اس مقصد کے لیے بورڈ نے اسلام آباد میں پینیس ایکڑ اراضی حاصل کر لی ہے۔

پاکستان کرٹ بورڈ کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم اور اس کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل اگلے سال کے آخری تک تعمیر کر لیا جائے گا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔