آفتاب شیر پاؤ کی سیاسی جماعت کا نام تبدیل

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 15:17 GMT 20:17 PST

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے اپنی سیاسی جماعت کا نام تبدیل کر کے اب علاقائی یا قوم پرستی کی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آفتاب شیرپاؤ آئندہ انتخابی میدان میں پختون قوم پرستی کا نعرہ لگا کر اتریں گے۔

نئی سیاسی جماعت کا نام قومی وطن پارٹی رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی جماعت کا پرچم بھی تبدیل کر کے اب اس میں تین رنگوں کی بجائے سبز اور سفید دو رنگ ہوں گے۔

آفتاب اخمد خان شیر پاؤ پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما تھے اور ان کی قائدانہ صلاحتیوں کا اعتراف پاکستان بھر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بے نظیر بھٹو کے دور میں سینیئر وائس چیئرمین کا عہدہ حاصل کر لیا تھا اور جماعت میں ان کی اہم پوزیشن تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی میں انیس سو ننانوے میں بے نظیر بھٹو سے اختلافات پیدا ہونے کے بعد آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ قائم کی تھی لیکن ان کی جماعت سن دو ہزار دو اور سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

پی پی پی شیرپاؤ نے دو ہزار دو کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی دو سو بہتر نشستوں میں صرف دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اپنی جماعت کا نام تبدیل کرتے وقت چند روز پہلے آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کی جماعت خطے میں پختونوں کو درپیش مسائل پر بھر پور توجہ دے گی علاقے میں امن کا قیام اور ترقی ان کی ترجیحات ہوں گی۔

انھوں نے کراچی، متحدہ عرب امارات اور افغانستان کے پختونوں کو در پیش مسائل کا ذکر کیا اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکزی سطح کی سیاست میں آفتاب شیر پاؤ کوئی من پسند مقام حاصل نہیں کر پا رہے تھے اس لیے انھوں نے علاقائی یا قومی پرستی کی سیاست کو اب ترجیح دی ہے۔

سینییر صحافی اور مبصر ایم ریاض کا کہنا ہے کہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہندوستان میں رائج علاقائی سیاست سے متاثر نظر آتے ہیں جو اپنے علاقے میں مقام حاصل کر کے پھر قومی سطح کی سیاست میں بھی اپنے گروپ کی طور پر اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں۔

"آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہندوستان میں رائج علاقائی سیاست سے متاثر نظر آتے ہیں جو اپنے علاقے میں مقام حاصل کر کے پھر قومی سطح کی سیاست میں بھی اپنے گروپ کی طور پر اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں۔"

مبصر ایم ریاض

ان کا کہنا تھا پاکستان میں جیسے متحدہ قومی موومنٹ یا عوامی نیشنل پارٹی حالیہ سیاست میں اہم علاقائی گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں اور مرکزی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں تو اسی طرح آفتاب شیرپاؤ بھی علاقائی سیاست کے ذریعے قومی سطح کی سیاست میں کردار ادا کرنے کے متمنی نظر آتے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ جماعت کے نام کی تبدیلی سے اہم سیاسی رہنما آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے ناراض ہوئے ہیں جن میں سعید احمد خان اور احمد حسن خان کے نام لیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ شیر پاؤ گروپ نے انتحابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کی ہیں لیکن سیاسی سطح پر آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے ساتھ اہم شخصیات رہی ہیں اور صوبے کی سیاست کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو دو طرح سے فائدہ ہو سکتا ہے ۔ اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار سے بڑی تعداد میں لوگ اور اے این پی کے اپنے کارکن جماعت کے قائدین سے ناراض ہیں اور اب آفتاب احمد خان شیرپاؤ اے این پی کے ناراض کارکنوں اور رہنماوں کو اپنی طرف لانے کی کوشش کریں گے۔

اس کے علاوہ قومی سطح کی سیاسی جماعتیں جیسے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز بھی کوئی زیادہ متحرک نظر نہیں آ رہیں اور ان جماعتوں کے اندر اختلافات کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

آفتاب احمد خان شیرپاؤ صوبے میں دو مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں اور انیس سو چھیانوے ستانوے میں تو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کا تختہ الٹ کے پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کر دی تھی۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ قومی سطح پر آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے پاس انتخاب کی کوئی زیادہ اختیار نہیں تھا اور اگر ان کا یہ جوا ناکام ہوا تو شاید انہیں اس کے بعد پھر مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔