ملالہ نے بولنا شروع کر دیا ہے: رحمٰن ملک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 21:06 GMT 02:06 PST

پاکستان میں ملالہ پر حملے کی مذمت میں مظاہرہ۔

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ کے مطابق ملالہ نے بولنا شروع کر دیا ہے۔

انھوں نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں نے بعض خبروں میں سنا کہ ہم سیاسی پناہ لے لیں گے تو مجھے ان پر ہنسی آئی۔ کیوں کہ ہماری ساری قربانیاں، میری ذاتی قربانی، میری بیٹی پر حملہ، اس کا کوئی ایسا سستا مقصد نہیں تھا کہ ہم کسی اور ملک میں جا کر ساری زندگی کے لیے وہیں بس جائیں۔‘

نو اکتوبر کو ملالہ پر حملے کے بعد ان کے خاندان کے کسی فرد نے پہلی بار میڈیا سے بات کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسے مچھلی کے لیے پانی ہوتا ہے، ویسے ہی میرے لیے پاکستان، خیبر پختونخوا اور سوات ہے۔‘

ملالہ کا علاج برمنگھم کے ہسپتال میں ہو رہا ہے۔ ضیاالدین یوسفزئی ملالہ سے ملنے کے لیے برمنگھم پہنچ گئے ہیں۔

ضیاالدین کے ساتھ پاکستان کے وزیرِ خارجہ رحمٰن ملک بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ ملالہ کی حالت میں بہتری آ رہی ہے اور انھوں نے اپنے سکول کی کتابیں منگوائی ہیں۔

کورس کی کتابیں

"’ملالہ نے بولنا شروع کر دیا ہے، انھوں نے فون پر اپنے ماں باپ سے بات کی ہے اور انشااللہ وہ روبصحت ہونے کے بعد پاکستان لوٹ آئیں گی۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا ہے کہ وہ میرے کورس کی کتابیں ساتھ لے کر آئیں۔‘"

’ملالہ نے بولنا شروع کر دیا ہے، انھوں نے فون پر اپنے ماں باپ سے بات کی ہے اور انشااللہ وہ روبصحت ہونے کے بعد پاکستان لوٹ آئیں گی۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا ہے کہ وہ میرے کورس کی کتابیں ساتھ لے کر آئیں۔‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ پورے ملک کو ملالہ پر فخر ہے۔

برمنگھم کے کوئین الزبیتھ ہسپتال نے، جہاں ملالہ زیرِ علاج ہیں، جمعرات کے روز ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ملالہ اب آرام سے ہیں اور ان پر علاج کا خاطر خواہ اثر ہو رہا ہے۔

دریں اثنا ہزاروں لوگوں نے ایک آن لائن عرض داشت پر دستخط کیے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملالہ کو امن کا نوبیل انعام دیا جائے۔ عرض داشت میں کہا گیا ہے کہ ملالہ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر لڑکیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔