’گیس ملکی پیداوار ہے، مہنگی کیوں ہے؟‘ سپریم کورٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 08:50 GMT 13:50 PST

عدالت کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں کو کسی طور پر بھی پیٹرولیم کی مصنوعات کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا

پاکستان میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار تعین کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے اور اس کو یکم جولائی سنہ دو ہزار بارہ کی پوزیشن پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات سیکرٹری پیٹرولیم ڈاکٹر وقار مسعود نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں کے تعین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی۔

اُنھوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کونسل کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کا ہفتہ وار تعین کرنے کا فیصلہ ہوا تھا جسے معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا اور سی این جی سٹیشنز کے مالکان کے درمیان آپریٹنگ کاسٹ سے متعلق طے پانے والا معاہدہ بھی معطل کردیا گیا ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم کے مطابق اوگرا کو گیس کی ہر چھ ماہ بعد قمیتوں کا جائزہ لینے کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

"اگر بلوچستان کے علاقے سوئی اور دیگر علاقوں جہاں پر گیس کے ذخائر موجود ہیں، وہاں پر ترقیاتی کام کیے جاتے تو وہاں حالات اس نہج پر نہ پہنچتے جس نہج پر آج ہیں"

چیف جسٹس آف پاکستان

واضح رہے کہ یکم جولائی کو ریجن ون میں سی این جی کی قیت 77 روپے جبکہ ریجن ٹو میں ستر روپے تھی۔ اس وقت ریجن ون میں سی این جی کی قیمت بانوے روپے ہے جبکہ ریجن ٹو میں گیس کی قیمت چھیاسی روپے ہے۔

ریجن ون میں صوبہ خیبر پختون خوا، پوٹھار علاقہ اور صوبہ بلوچستان ہیں جبکہ ریجن ٹو میں صوبہ پنجاب اور سندھ کے علاقے شامل ہیں۔

سیکرٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے خلاف پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کو بھی اقتصادی رابطہ کونسل کو بھجوا دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں کے تعین سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

چیئرمین اوگرا سعید احمد نے عدالت کو بتایا کہ ریجن ون میں حکومت گیس اُنیس روپے جبکہ ریجن ٹو میں گیس کی قیمیت سترہ روپے اٹھاون پیسے فی کلو کے حساب سے لیتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کے مالکان کو بیس روپے اسی پیسے فی کلو کے حساب سے آپریٹنگ کاسٹ دی جاتی ہے۔ چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ سی این جی مالکان کا منافع گیارہ روپے بیس پیسے فی کلو کے حساب سے ہے۔

چیف جسسٹس نے اوگرا کے چیئرمین سے استفسار کیا کہ یہ آپریٹنگ کاسٹ کس قانون کے تحت دی جاتی ہے جبکہ سی این جی مالکان آپریٹنگ کاسٹ کے علاوہ منافع بھی الگ سے لیتے ہیں تاہم سعید احمد اس سے متعلق عدالت کو مطمعین نہ کر سکے۔

" سی این جی اسٹیشنز کے مالکان کو بیس روپے اسی پیسے فی کلو کے حساب سے آپریٹنگ کاسٹ دی جاتی ہے"

چیئرمین اوگرا سعید احمد

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی این جی کی موجودہ قیمت بانوے روپے باون پیسے میں سے 67 روپے ایک ’سوالیہ نشان‘ ہیں جن کے بارے میں متعلقہ حکام کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں کو کسی طور پر بھی پیٹرولیم کی مصنوعات کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ایک حد سے زیادہ منافع حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ گیس تو ملکی پیداوار ہے تو پھر اس کو اتنی مہنگی کیوں کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں ڈویلپمنٹ چارجز بھی شامل ہیں لیکن ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے علاقے سوئی اور دیگر علاقوں جہاں پر گیس کے ذخائر موجود ہیں، وہاں پر ترقیاتی کام کیے جاتے تو وہاں حالات اس نہج پر نہ پہنچتے جس نہج پر آج ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سی این جی سٹیشن کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے نوے لاکھ روپے تک رشوت دینے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں اور اگر ایسا ہے تو حکومت کو اس ضمن میں اقدامات کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔