پی آئی اے، کیا خسارے پر قابو پایا جا سکے گا؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 15:42 GMT 20:42 PST
پی آئی اے

پی آئی اے کے مینجمنٹ میں تبدیلی لائی گئی ہے۔

پاکستان کی قومی ایئرلائن کی قیادت میں تبدیلی کے بعد امید کی جارہی ہے کہ گزشتہ چھ برس سے اربوں روپے کے مالی نقصان برداشت کرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن اب مالی دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہو سکےگی۔

پاکستان کی قومی ایئر لائن میں اندورنی حلقوں کے مطابق حکومت یا پی آئی اے کی قیادت کے غلط فیصلے نہ صرف قومی ایئر لائن کو مالی خسارے کی جانب دھکیل دیتے ہیں بلکہ ان فیصلوں کو نبھانے میں مزید خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

قومی ایئر لائن کو آخری بار منافع سنہ دو ہزار چار میں ہوا تھا جس کے بعد یہ مسلسل مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں پی آئی اے کو دو ارب روپے سے زیادہ کا منافع ہوا تھا جبکہ سنہ دو ہزار آٹھ میں اس کا خسارہ بتیس ارب روپے تک جا پہنچا تھا جو گزشتہ برس چھبیس ارب روپے رہا۔

پی آئی اے میں گزشتہ چار سال کے دوران تین چیئرمین اور چار مینیجنگ ڈائریکٹرز کو تو تبدیل کیا جا چکا ہے لیکن اس ادارے کے مالی خسارے پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پی آئی اے میں لیفٹیننٹ ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کو نیا چیئرمین مقرر کیا ہے جبکہ قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر جنید یونس کو اسی عہدے پر مستقل کر دیا ہے۔

جنرل آصف یاسین ملک گزشتہ دسمبر فوج سے ریٹائر ہوئے تھے اور انہیں رواں سال کے وسط میں سیکریٹری دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ ان سے پہلے نرجس سیٹھی سیکریٹری دفاع کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی تھیں۔

جنید یونس سے پہلے پی آئی اے میں ایئر چیف مارشل ریٹائرڈ راؤ قمر سلیمان مینیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے جنہیں بعد میں چیئرمین بنا دیا گیا تھا۔ جنید یونس کو ہوا بازی کے ادارے کا چونتیس برس کا تجربہ ہے، وہ پائلٹ بھی رہ چکے ہیں اور وہ کارپوریٹ مینیجمنٹ میں بھی تجربہ رکھتے ہیں۔

خوش آئند۔۔۔

" تمام امیدیں اور امکانات خوش آئند ہیں لیکن قومی ایئرلائن کو مالی خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت کو مسلسل اس کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہوگی تاکہ پی آئی اے کو قابل اعتماد اور منافع بخش قومی ادارہ بنایا جاسکے"

پی آئی اے میں مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کو ایک عرصے کے بعد مضبوط قیادت ملی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اب یہ ادارہ چھ سال کے بعد مالی خسارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان سلطان حسن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کا مالی سال جنوری تا دسمبر ہوتا ہے اور اس سال ستمبر میں پی آئی اے نے منافع کمایا ہے۔

پی آئی اے پر مختلف حلقے الزام لگاتے ہیں کہ اس ادارے میں گنجائش سے زیادہ بھرتیاں ادارے پر نہ صرف بوجھ ہیں بلکہ یہ مالی خسارے کا باعث بھی ہیں۔

قومی ایئر لائن کے ترجمان سلطان حسن اس مفروضے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی آئی اے کے مجموعی بجٹ کا چودہ فیصد حصہ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں خرچ ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملازمین گنجائش سے زیادہ نہیں ہیں۔ ان کے بقول دیگر بین الاقوامی ایئر لائنز کے مجموعی بجٹ کا پچیس فیصد حصہ ان کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں صرف ہوتا ہے۔

سلطان حسن نے مالی خسارے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے ماضی میں جو طیارے خریدے تھے اب پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہونے کے باعث ان کی ادائیگی کی رقم میں اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ایندھن کی قیمت بھی کافی بڑھ چکی ہے اور مالی خسارے کے لیے ان ہی دو وجوہات کو فوقیت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کے آنے کے بعد ادارہ اپنی آمدنی کو بڑھانے پر توجہ دے گا جبکہ اخراجات کو کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور سادگی کو اپنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی کو بڑھانے کے لیے مارکیٹنگ کے جدید طریقوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام امیدیں اور امکانات خوش آئند ہیں لیکن قومی ایئر لائن کو مالی خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت کو مسلسل اس کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہوگی تاکہ پی آئی اے کو قابل اعتماد اور منافع بخش قومی ادارہ بنایا جاسکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔