کراچی کے تاجر، سی سی ٹی وی سے کاروبار کی نگرانی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 16:27 GMT 21:27 PST

’امن و امان اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگ کارخانے بیچ بیچ کر امریکہ و یورپ جارہے ہیں یا پھر بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ کراچی کے ایک تاجر

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی کی تاجر برادری کی اکثریت نے نہ صرف صنعتی علاقوں میں قائم اپنے کارخانوں اور دفاتر میں جانا چھوڑ دیا ہے بلکہ کاروبار جاری رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی طرز کے الیکٹرونک کیمرے نصب کر کے شہر کے قدرے پرامن علاقوں سے اپنے دفاتر کی (ریموٹ) نگرانی شروع کر دی ہے۔ یہ تاجر اپنے گھروں یا عارضی مراکز سے پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تاجر برادری کے مطابق اکثر سرمایہ داروں اور بڑے صنعتکاروں نے یہ اقدام شہر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، لوٹ مار، فرقہ وارانہ، لسانی اور مجرمانہ نوعیت کی قتل و غارتگری، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، سٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم سے محفوظ رہنے کے لیے کیا ہے۔

بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق مختلف صنعتی علاقوں مثلاً سائیٹ، نارتھ کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا، کورنگی، اور مضافاتی بستیوں میں قائم کارخانوں اور صنعتی اداروں کے بیشتر مالکان نے کارخانوں اور دفاتر تک جانا ترک کر کے شاہراہ فیصل، کلفٹن اور ڈیفنس جیسے متمّول مگر قدرے پرامن سمجھے جانے والے علاقوں میں عارضی دفاتر یا مراکز قائم کرلیے ہیں یا پھر گھر ہی میں بیٹھ کر تمام صنعتی پیداوار کی نگرانی کے لیے ملک میں دستیاب مختلف کیمرہ سسٹمز یا مانیٹرنگ کے آلات وغیرہ نصب کر لیے ہیں۔

"خود سوچیئے، جب اس شہر میں رہنے والے ارب پتی سرمایہ دار یا صنعتکار کو فیکٹری جانے کے لیے بھیس بدلنا پڑے، میلے حُلیے میں عام آدمی بن کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چھپ کر، ڈر ڈر کر جانا پڑے اس میں بھی یہ خوف ہو کہ کوئی (موبائیل) فون چھینّے کی کوشش میں نہ مار ڈالے تو پھر ہمارے پاس کیا چارہ رہ جاتا ہے۔ اب اس ترقی یافتہ دور میں جہاں اور بہت سے گیجٹس (آلات) آگئے ہیں وہاں یہ (مانیٹرنگ کے جدید آلات مثلاً کیمرے وغیرہ جیسی) جدید سہولتیں بھی میسّر ہیں تو کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک بار کا خرچہ تو ہے۔ پھر ہم بھی خوش فیملی (اہلِ خانہ) بھی خوش۔"

کراچی کے ایک تاجر

بی بی سی نے اس ضمن میں کئی تاجروں سے گفتگو کی مگر سب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔

شہر کے ایک معروف تاجر نے بتایا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ریاست کے تمام ادارے شہر میں امن و امان خصوصاً تاجر برادری کو تحفظ فراہم کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دینے لگے۔ ’یوں بھی شہر میں فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی نوعیت کی قتل و غارت میں کم از کم پندرہ افراد روزانہ مار دیے جاتے ہیں اور اب تو ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے یہ ہلاکتیں خبر کا درجہ بھی نہیں رکھتیں۔‘

’خود سوچیے، جب اس شہر میں رہنے والے ارب پتی سرمایہ دار یا صنعتکار کو فیکٹری جانے کے لیے بھیس بدلنا پڑے، میلے حُلیے میں عام آدمی بن کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چھپ کر، ڈر ڈر کر جانا پڑے اس میں بھی یہ خوف ہو کہ کوئی (موبائیل) فون چھینّے کی کوشش میں نہ مار ڈالے تو پھر ہمارے پاس کیا چارہ رہ جاتا ہے۔ اب اس ترقی یافتہ دور میں جہاں اور بہت سے گیجٹس (آلات) آگئے ہیں وہاں یہ (مانیٹرنگ کے جدید آلات مثلاً کیمرے وغیرہ جیسی) جدید سہولتیں بھی میسّر ہیں تو کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک بار کا خرچہ تو ہے۔ پھر ہم بھی خوش فیملی (اہلِ خانہ) بھی خوش۔‘

’دراصل بات سیاسی نوعیت کی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بظاہر مجرموں کے سامنے بے بس نظر آنے والے یہ ریاستی ادارے (پولیس، رینجرز، اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے) اگر چاہیں تو آدھے گھنٹے میں شہر کی صورتحال ٹھیک ہوسکتی ہے‘ ۔ کراچی کے تاجر

تاجروں کی تنظیم ایوانِ صنعت و تجارت کراچی یا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے رکن ایک اور تاجر کا کہنا ہے کہ مایوسی اپنے اداروں کی کارکردگی سے نہیں ہے۔ ’دراصل بات سیاسی نوعیت کی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بظاہر مجرموں کے سامنے بے بس نظر آنے والے یہ ریاستی ادارے (پولیس، رینجرز، اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے) اگر چاہیں تو آدھے گھنٹے میں شہر کی صورتحال ٹھیک ہوسکتی ہے۔ یہ چاہیں تو افغانستان کی جنگ جیت سکتے ہیں، کراچی تو معمولی بات ہے۔ اصل مسئلہ ول (ارادے) کا ہے پولیٹیکل ول (سیاسی نیت) کا ہے۔‘

کپڑوں کی تجارت سے وابستہ ایک صنعتکار نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر جس دھڑلّے سے ہمیں موبائیل فون پر دھمکی دیتے ہیں، جس لہجے میں کھلّم کھّلا دہشت زدہ کرتے ہیں پرچی لے کر ان کے کارندے کارخانوں میں آتے ہیں وہ بہت بھیانک ہے۔ ’اور جب ہم ریاست کی طرف دیکھتے ہیں تو مایوسی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم بتاتے ہیں کہ اس نمبر سے فون پر دھمکی دی گئی ہے، اس شحض نے رابطہ کرکے یہ مطالبہ کیا ہے، پورا نہ کرنے کی صورت میں ان نتائج سے آگاہ کیا، مگر کچھ نہیں ہوتا۔ سب ہماری سن تو لیتے ہیں ہمارے مسئلے کا حل کسی کے پاس نہیں یا کم از کم کوئی کرنا نہیں چاہتا۔‘

"یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ریاست کے تمام ادارے شہر میں امن و امان خصوصاً تاجر برادری کو تحفظ فراہم کرنے میں بظاہر ناکام دکھائی دینے لگے۔ یوں بھی شہر میں فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی نوعیت کی قتل و غارت میں کم از کم پندرہ افراد روزانہ مار دیے جاتے ہیں اور اب تو ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لئے یہ ہلاکتیں خبر کا درجہ بھی نہیں رکھتیں۔"

کراچی تاجر

ایک بڑے صنعتی گروپ کے مالک صنعتکار کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، امن و امان اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگ کارخانے بیچ بیچ کر امریکہ و یورپ جارہے ہیں یا پھر بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی تاجر تو بھارت تک کا سوچ رہے ہیں۔ ’میں تو شاہراہ فیصل یا آئی آئی چندریگر بھی نہیں جاتا۔ اپنے گھر سے کام کرتا ہوں۔ شاید کابل و بیروت جیسے جنگ زدہ شہروں میں بھی یہ صورتحال نہیں تھی۔ کیا آپ آج کے پاکستان کو جوہری طاقت اور ذمہ دار ملک سمجھ سکتے ہیں؟ اب سرمایہ باہر جارہا ہے، ہمارے خاندان نقلِ مکانی کررہے ہیں۔ ملک کی معیشت کا یہ مرکز (کراچی) جو ستّر فیصد ریوینیو پیدا کرتا ہے، صنعتی طور پر مفلوج ہوجائے گا۔‘

اس صورتحال پر سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت بھی تاجر برادری کی تشویش سے آگاہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ان سے بات چیت کررہے ہیں، تجاویز طلب کر رہے ہیں پولیس اور دیگر اداروں کی نفری بڑھا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ یہ دو کروڑ آبادی کا شہر بن چکا ہے اور بھی مسائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک شحض کا نام کسی جرم سے جُڑ جاتا ہے تو اب ممکن ہے کہ دیگر عناصر بھی آسان ذریعہ سمجھ کر اسی کے نام سے لوگوں سے رقم بٹور رہے ہوں اور اگر ایسا ہے تو تاجر ہمیں بتائیں ہم ان کی تمام شکایات دور کریں گے۔ ’تمام جرائم آمرانہ ادوار کی پیداوار ہیں اور پیپلز پارٹی کی حکومت پوری تندہی سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔