عمران خان سے امریکی حکام کی پوچھ گچھ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 06:48 GMT 11:48 PST

عمران خان پاکستانی سرزمین پر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے مخالف ہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی امیگریشن کے اہلکاروں نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ڈرون حملوں پر ان کے موقف کے بارے میں ان سے تفتیش کی ہے۔

یہ واقعہ جمعہ کو اس وقت پیش آیا جب عمران خان کینیڈا میں اپنی جماعت کے لیے چندہ جمع کرنے کی تقریب میں شرکت کے بعد ایسی ہی ایک اور تقریب میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک کے لیے پرواز کرنے والے تھے۔

عمران خان نے ٹوئٹر پر اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ ’مجھے طیارے سے اتار لیا گیا اور کینیڈا میں موجود امریکی حکام نے ڈرون حملوں پر میرے موقف کے بارے میں مجھ سے پوچھ گچھ کی۔ میرا موقف واضح ہے اور وہ یہ کہ ڈرون حملے رکنے چاہیئیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تفتیش کی وجہ سے وہ مقررہ پرواز سے نیویارک بھی نہیں جا سکے اور نہ ہی نیویارک میں منعقدہ ظہرانے میں شرکت کر سکے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن میں امریکی حکام نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مقامی پروازيں ہونے کی وجہ سے امریکہ سفر کرنے والوں کی امیگریشن امریکی حکام کی طرف سے کینیڈا کے ہی ہوائی اڈوں پر کی جاتی ہے۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کی رات عمران خان نے امریکہ پہنچنے کے بعد اپنی جماعت کے ’فنڈ ریزر‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹورنٹو کے ہوائی اڈے پر روکے جانے کی وجہ پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان بقول ان کے امریکہ کی جنگ سے نکل جائے تو اس کے متعلق تمام دنیا میں شدت پسند یا جہادی ہونے کا تصور از خود ختم ہو جائے گا۔

عمران خان پاکستانی سرزمین پر امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے مخالف ہیں اور انہوں نے حال ہی میں ان حملوں کے خلاف اسلام آباد سے قبائلی علاقہ جات تک ایک ’امن مارچ‘ ریلی بھی نکالی تھی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔