روشن خیالی کا تاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 09:01 GMT 14:01 PST

’اصل میں متحد بائیں بازو کو ہونا ہے، یہ ملالہ کا ہم سب پر قرض ہے‘

ملالہ پر حملے کے واقعے کے بعد پاکستان کے روشن خیال اور عمومی طور پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حلقوں کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ اس واقعے کی واضح، قطعی اور مکمل مذمت کرنے میں دائیں بازو کو کیسے عار ہو سکتا ہے۔

مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دائیں بازو کے لیے اِس موقف کو اِختیار کرنا اِتنا ہی قدرتی اور غیر اِرادی ہےجتنا بائیں بازو کے لیے اس واقعے کی مذمت اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں اس قسم کی سوچ اور اس کی حامی ہتھیار بردار تنظیموں کا قلع قمع کرنے کا مطالبہ کرنا۔

بات صرف سوچ کی ہی نہییں بلکہ معاشرتی اور معاشی طبقات کی بھی ہے۔ بائیں بازو کے لوگ ملک میں اُن مختلف النوع نظامِ تعلیم کے بارے میں بھی جانتے ہیں اور دولت اور طاقت کے اُس تقسیم کے نظام کو بھی خوب سمجھتے ہیں جس کے تحت ملک میں کئی ریاستیں بستی ہیں۔

اور یہ کہ اِن دو کلیدی وجوہات کی بنا پر طبقات میں جو نظریاتی اور فکری تفریق پیدا ہوگئی ہے وہ شاید اُتنی ہی گہری ہے جتنی جنوبی افریقہ کے سفید اور سیاہ فاموں میں تھی۔

بائیں بازو یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی وجودیت کو سلامتی کے پیرائے میں ڈھالنے کے لیے مسلسل اور وسیع اقدامات کیے جن سے پوری قوم کی سوچ متاثر ہوئی اور اس سوچ کو عملی جامہ پہنانےکے لیے مذہبی جماعتیں اور ان کی متوازی عسکری تنظیمیں وجود پذیر ہوئیں۔

ان تین جامع جہتوں نے معاشرے کو بڑی خوبی سے اپنی جکڑ میں رکھا ، سوچ کو مذہبی پیرائے میں ڈھال کر بحث و تقریر کو مفلوج کیا اور عسکریت، خوف اور تشدّد کے بے تحاشا استعمال سے ایک خود ساختہ اورمصنوعی جزا اور سزا کے عمل کو لوگوں کی روزمرّہ زندگی میں ازنِ الٰہی بنا کر پیش کیا۔

سیاسی فضا ہموار کرنے کی ضرورت

بات صرف اس عسکری آپریشن کی نہیں ہے جس کا مطالبہ اس وقت ملک میں کیا جا رہا ہے بلکہ اس سیاسی فضا کا ہے جس کا ذکر صدر زرداری نے اپنی تقریرمیں کیا جس کے تحت ملک میں مذہبی شدّت پسندی کے خلاف ایک عمومی مفاہمت ابھر آئے اور جو اس سیاسی قبولیت کو ختم کر دے جو اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ مذہبی اور عسکری تنظیموں کو حاصل ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کے پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں فوج کی سیاست میں دراندازی کے خلاف مصّمم ایکا کر چکی ہیں۔ اس سیاسی فضا کو حاصل کرنے میں بائیں بازو کا کردار بنیادی ہو سکتا ہے اور جس کا مطالبہ صدر اپنی تقریر میں بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ ہے وہ سیاسی اور فکری خلاء جس میں ملالہ پر حملے کا واقعہ ہوا۔ اس خلاء میں چونکہ بااثر روشن خیال قیادت کا بھی فقدان ہے اور بقول چومسکی معاشرے میں اس قدر تقسیم ہے کہ ایٹمائزیشن ہو چکی ہے، ملالہ اپنے ماتھے کے زخم کے ساتھ روشن خیالی کے تاج کا بوجھ بھی اپنے زخمی سر پر اٹھانے کے لیے مجبور ہے کیونکہ بائیں بازو کے پاس اس سے بہتر کوئی حکمتِ عملی نہیں کہ ملالہ کو مشعل راہ مان کر انہی قوتوں کے پاس اپنی بدلاؤ اور انقلاب کی فریاد لے جائیں جو ملالہ کے سانحے کے اصل ذمّہ دار ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ملالہ پر حملہ ان مندرجہ بالا قوّتوں کے لیے نہیں بلکہ خود بائیں بازو کے لیے نتیجہ کن موڑہے جس سے فکر و عمل کی وہ راہیں پھوٹنی چاہیئیں جو پاکستان کے مذہبی اور عسکری حلقوں کے غیر انسانی فلسفے کو تبدیلی پر مجبور کر دیں۔

بائیں بازو کو جن سوالوں کا آج سامنا ہے وہ تقریباً سب صدرآصف علی زرداری نے سیفما کانفرنس میں کیے ہیں اور اگر آپ کو صدر کی ذات سے ایک عمومی بیزاری بھی ہے جو لوگوں کی اکثریت کا ان کے لیے غالب تاثر ہے تو بھی ان سوالوں کے برمحل ہونے سے انکارنہیں کیا جا سکتا۔

کیا پاکستان میں ریاست کے اندر جو ریاست موجود ہے وہ اپنے وجود کے سب سے کلیدی محور یعنی سلامتی سے ہٹنے کو تیار ہے؟ اگر ملالہ پر حملے نے کسی سوال کو مکمل شدّت کے ساتھ دوبارہ زندہ کر دیا ہے تو وہ اس دیرینہ سوال سے کم نہیں ہو سکتا۔

کیا پاکستان کے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف اور وہ جو ان کے بعد آئیں گے اپنے آپ کو انڈیا سینٹرک کے بجائے کسی اور طریقے سے ڈیفائن کرنے پر آمادہ ہوں گے؟

کیا ایسا ہو پائےگا کہ پاکستان مثال کے طور پر ایک محدود مدّت کے لیے ہی سہی سوئٹزرلینڈ کی طرز پر اپنے عسکری مقاصد کو ایک طرف رکھ کر غیرجانبدار ریاست اور پورے دنیا کے لیے سرمایہ کاری کا مرکز بن جائے تاکہ ملک میں اسلحے کی ترسیل کے بجائے علم ترسیل ہو سکے اور وہ مدرسے جن کا ذکر صدرزرداری نے اپنی تقریر میں ایک تنبیہ کے طور پر کیا وہ سب کے سب جامعات میں تبدیل ہو جائیں؟

بات صرف اس عسکری آپریشن کی نہیں ہے جس کا مطالبہ اس وقت ملک میں کیا جا رہا ہے بلکہ اس سیاسی فضا کا ہے جس کا ذکر صدر زرداری نے اپنی تقریرمیں کیا جس کے تحت ملک میں مذہبی شدّت پسندی کے خلاف ایک عمومی مفاہمت ابھر آئے اور جو اس سیاسی قبولیت کو ختم کر دے جو اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ مذہبی اور عسکری تنظیموں کو حاصل ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کے پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں فوج کی سیاست میں دراندازی کے خلاف مصّمم ایکا کر چکی ہیں۔

اس سیاسی فضا کو حاصل کرنے میں بائیں بازو کا کردار بنیادی ہو سکتا ہے اور جس کا مطالبہ صدر اپنی تقریر میں بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ اصل میں متحد بائیں بازو کو ہونا ہے۔ یہ ملالہ کا ہم سب پر قرض ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔