سماجی کارکن اسد رحمان انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  منگل 30 اکتوبر 2012 ,‭ 15:52 GMT 20:52 PST
اسد رحمان

اسد رحمان نے زندگی کے آخری ایّام لاہور میں گزارے

بلوچستان تحریک کے حامی اور سماجی کارکن اسد رحمان عارضۂ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر باسٹھ برس تھی۔

اسد رحمان بلوچوں کی حقِ خود ارادیت کے حامی تھے۔ ان کا موقف تھا کے بلوچستان میں انتظامی اختیار مکمل طور پر سول حکومت کے پاس ہونا چاہیے اور وہاں سے ایف سی کو نکال دیا جانا چاہیے۔

اسد رحمان بلوچستان کے وسائل پر مقامی حکومت کے اختیار کے حامی تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے موضوع پر کئی تعلیمی اداروں میں لیکچرز دیے۔

انیس سو ستر کی دہائی میں برطانیہ میں زیرِ تعلیم پانچ پاکستانی نوجوانوں نے بلوچستان کی گوریلا وار میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

یہ نوجوان نہ صرف متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے بلکہ وہ بلوچ بھی نہیں تھے۔ ان کے گروہ کو لندن گروپ کہا جاتا تھا۔

اپنی عیش و آرام کی زندگی ترک کر کے بلوچستان کے علاقے مری کے پہاڑوں میں بلوچ جنگجوؤں کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے والے ان نوجوانوں میں اسد رحمان بھی تھے۔

ان نوجوانوں نے لندن میں تعلیم اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر آباد کہہ کر بلوچ نام اپنائے، وہاں کی زبان سیکھی، پہاڑوں میں رہ کر بھوک برداشت کی اور جنگجنوؤں کی اگلی صفوں میں شامل ہو کر فوج کے خلاف لڑائی لڑی۔

اس لندن گروپ میں اسد رحمان سب سے کم عمر تھے لیکن اکیس سال کی عمر میں وہ سب سے زیادہ چاک و چوبند تھے۔

اسد رحمان کے خاندان کے دیگر افراد میں والدین کے علاوہ دو بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔ ان کے والد جسٹس رحمان پاکستان کی عدالتِ اعظمیٰ کے سابق چیف جسٹس تھے۔ ان کے بڑے بھائی شاہد رحمان سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ دوسرے بھائی راشد رحمان ایک معروف صحافی ہیں۔

اسد رحمان گیارہ اگست انیس سو پچاس کو صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام ضلع مری میں پیدا ہوئے۔ جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا اور انہوں نے وہیں سے تعلیم حاصل کی۔ سنہ انیس سو اڑسٹھ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے دوران انہوں نے جنرل ایوب کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔

وہ اعلی تعلیم کے لیے لندن گئے لیکن بلوچستان سے لگاؤ اور وہاں کی گوریلا تحریک میں شمولیت کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پائے ۔ ان کی واپسی بلوچستان میں ہی ہوئی۔ لندن گروپ کے دیگر ممبران میں نجم سیٹھی، احمد رشید، اسد رحمان کے بھائی راشد رحمان اور دلیپ داس شامل تھے۔

انیس سو ستر میں مشرقی پاکستان میں ہونے والی سول وار کے بعد انہوں نے ایک ماہوار جریدہ ’پاکستان زندہ باد‘ شائع کیا۔ اس رسالے میں وہ مختلف قوموں اور اقلیتوں کے حقوق، بنیادی حقوق سے متعلق مضامین لکھا کرتے تھے۔ انہی مضامین کے باعث شیر بخش مری اور نواب خیر بخش مری نے ان سے رابطہ کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے نظریات کے عین مطابق ہیں۔

لندن گروپ نے بلوچستان تحریک کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان پانچ افراد کے علاوہ لندن گروپ کے زیادہ تر افراد نے بلوچستان تحریک میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ سنہ انیس سو اٹھہتر تک وہ اپنی شناخت مخفی رکھ کر ایک بلوچ کی حیثیت سے مری قبیلے میں شامل رہے۔ انہوں نے میر ہزار خان بجرانی کے ہاں ایک طویل وقت گزارا۔ انہوں نے طبی امداد کی تربیت بھی حاصل کی۔

ان کے والدین انیس سو چوہتر تک ان کی پاکستان آمد اور بلوچستان تحریک میں شمولیت سے لا علم رہے۔ ان کی شناخت اس وقت ظاہر ہوئی جب لندن گروپ کے بعض ارکان کراچی سے گرفتار کر لیے گئے۔

انیس سو تہتر میں نیشنل عوامی پارٹی کے خاتمے کے بعد نیم فوجی دستوں کی جانب سے مری اور بگٹی قبائل کے محاصرے کے بعد انہوں نے مری قبیلے کے جنگجوؤں کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں پر پہلا حملہ کیا۔ اس کے بعد بلوچستان میں گوریلا وار شروع ہو گئی جو انیس سو ستّتر تک چلی۔ اس دوران اسد رحمان افغانستان بھی گئے جہاں وہ بلوچستان سے ہجرت کر کے جانے والے خاندانوں کے لیے قائم خیمہ بستیوں میں رہے۔ افغانستان میں قیام کے دوران انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کو بلوچستان کے حالات سے متعلق آگاہ کیا۔

بلوچستان کے قبائلی رہنما میر ہزار خان کے اہم ساتھی اور گوریلا کمانڈر کے حیثیت سے کام کرنے والے اسد رحمان انیس سو پچہتر میں شدید بیمار ہو گئے۔ ایک معمولی آپریشن کے بعد انہیں ان کے دوست کے ہمراہ کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم وہ اپنی شناخت چھپائے رکھنے میں کامیاب رہے اور واپس بلوچستان پہنچ گئے۔

اسد رحمان انیس سو انہتر میں کابل سے لندن چلے گئے۔ اس کے بعد وہ وہ انیس سو اسّی میں پاکستان لوٹے۔

اسد رحمان نے زندگی کے آخری ایّام لاہور میں گزارے۔ وہ ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم سے وابستہ رہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔