’ملالہ پر حملے کو فوجی آپریشن کا جواز بنانا مناسب نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 30 اکتوبر 2012 ,‭ 18:20 GMT 23:20 PST

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کو جواز بنا کر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے برطانیہ آئے تھے۔

بی بی سی کے شفیع نقی جامعی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ ملالہ کی حالت بہتر ہے، تاہم انہیں احتیاط اور علاج کی ضرورت ہے۔

ملالہ پر حملہ کرنے والوں کے حوالے سے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے ایک مخصوص ذہنیت کے پروردہ ہیں۔ ’وہ عورتوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم نہیں چاہتے کہ مستقبل میں بھی ملالہ جیسا سلوک کسی اور کے ساتھ ہو‘۔

"کسی بھی علاقے میں فوجی کارروائی کے لیے بہت سارے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے جن میں اوّلین مقامی لوگوں کی حفاظت ہے۔ مناسب وقت، موسم اور کارروائی کے نیتجے میں نقل مکانی جیسے مضمرات کو دھیان میں رکھا جانا ضروری ہوتا ہے۔"

رحمان ملک

پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقے میں فوجی کارروائی کے لیے بہت سارے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے جن میں اولین مقامی لوگوں کی حفاظت ہے۔ مناسب وقت، موسم اور کارروائی کے نیتجے میں نقل مکانی جیسے مضمرات کو دھیان میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی کارروائی کا فیصلہ فوجی اور سول قیادت مل کر کریں گے‘۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا ’وہ ( امریکہ ) اپنی قوم کی مرضی اور مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ہم بھی ایسا ہی کریں گے‘۔

پاکستانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملالہ پر حملے کی سازش میں شامل کئی لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص عطاءاللہ جو اس سارے واقعے کا ذمہ دار ہے اس کی منگیتر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

"وہ ( امریکہ ) اپنی قوم کی مرضی اور مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ہم بھی ایسے ہی کریں گے۔"

رحمان ملک

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ طالبان نے حملوں کے لیے نیا طریقہ اپنایا ہے۔ ان کے بقول ’طالبان اب اشتہاری ملزمان کے ساتھ مل کر اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید اطلاعات سامنے آنے پر لوگوں کو مطلع ضرور کیا جائے گا۔

سوات میں سرگرم رہنے والے طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی حوالگی سے متعلق پاکستانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس بابت افغانستان کے صدر سے نہ صرف بات کی گئی ہے بلکہ تحریری درخواست بھی بجھوا دی گئی ہے۔ تاہم افغانستان نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل اور ان کے بیٹے کے اغوا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر پاکستانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کا قاتل گرفتار ہے اور اس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ جبکہ ان کے بیٹے کی تلاش میں سکیورٹی فورسز بہت حد تک کامیاب ہو چکی ہیں اور انہیں جلد بازیاب کروا لیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہونے کے باوجود وہ طالبان کی مذمت کرتے ہیں۔

لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں جتنے جرائم اور سماجی مسائل ہیں ان کی وجہ غربت ہے‘۔

کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’جس شہر کی آبادی دو کروڑ ہو وہاں جرائم کی شرح اتنی تو ہوتی ہی ہے۔ چاہے وہ شہر نیوریاک ہو یا واشنگٹن، وہاں بھی ایسا ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں لوگوں کے ذاتی جھگڑے اور مسائل بھی ہوتے ہیں۔ بقول رحمان ملک قتل کے ہر دس واقعات میں سے زیادہ سے زیادہ دو ہی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوتے ہیں باقی ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔