ملالہ پر حملہ، پاکستان کی مکمل تصویر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 12:22 GMT 17:22 PST
ملالہ اپنے گھروالوں کے ساتھ

ملالہ فی الوقت ایک برطانوی ہسپتال میں زیر علاج ہیں

ملالہ یوسف زئی پر ہونے والا حملہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک مکمل تصویر ہے۔

جنیوا میں جب ساڑھے چار برس بعد اقوام متحدہ کی کونسل برائے حقوق انسانی کے جائزہ اجلاس میں پاکستان کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی تو ملالہ پر ہونے والے حملے کی بازگشت بھی بار بار سنائی دیتی رہی۔

ملالہ پر حملے کے واقعے میں تعلیم آزادی کا اظہار، بچوں اور خواتین پر تشدد، جنسی تفریق سمیت ایسے بہت سے پہلو چھپے ہوئے ہیں جن کا شکار پاکستان کا ہر دوسرا شہری ہے۔

جنیوا میں ہونے والے اجلاس یں ملالہ کا پہلا حوالہ تو پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے پالیسی بیان میں دیا جو پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہی تھیں۔

حنا ربانی کھر نے جہاں یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جمہوری حکومت نے انسانی آزادیوں کو ممکن بنانے اور بچوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ہے وہیں یہ بھی کہا کہ پاکستان میں معیشت، انسانی زندگیوں اور آزادی کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشت گرد ہیں۔

پاکستان کی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’ہم دہشت گردوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ نہ ہی انھیں پاکستان کا مستقبل تاریکی اور جہالت سے عبارت کرنے کی اجازت دیں گے۔ پاکستانیوں نے ملالہ پر حملے کے بعد جس حوصلے کا اظہار کیا ہے اس نے اپنے ہم وطنوں اور حکومت کے اس عزم کو مزید پختہ کیا ہے کہ ہم دہشتگردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے ـ ملالہ ہی پاکستان کے مستقبل کی نمائندگی کرتی ہے‘۔

تاہم عالمی برادری نے ملالہ پر حملے کا تاثر کچھ اور ہی انداز میں لیا۔ انسانی حقوق کی کونسل کے ارکان کی اکثریت نے اپنے تقاریر میں ملالہ پر ہونے والے حملے پر رنج اور غصے کے جذبات کا اظہار کیا وہیں ان سے یکجہتی کا پیغام بھی دیا۔

رکن ملکوں نے پاکستان میں اقلیتوں، خاص طور پر عیسائی، شیعہ اور احمدی برادریوں کے حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی اور توہین مذہب کے قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔

"حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ حقائق بیان نہیں کرسکتی لیکن ہم کر سکتے ہیں ـ ہم نے تشدد سے متعلق معائدے پر دستخط تو کیے لیکن اپنے قومی قوانین میں وہ تبدیلیاں نہیں کیں کہ تشدد کا خاتمہ ہو سکے ۔ بچوں کے حقوق کے لیے بھی یہاں بیورو بنائے گئے لیکن کسی نے ان کی کارگردگی کی نگرانی نہیں کی۔توہین مذہب کا قانون ہو یا خواتین کے تحفظ کا معاملہ ہم نے اپنی رپورٹ میں تمام معاملات کا احاطہ کیا"

پیٹر جیکب

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ بھی انسانی حقوق کونسل کی توجہ کا مرکز بنا رہا اور ان کی تحقیقات کے لیے خودمختار کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی۔ سزائے موت کے خاتمے کی سفارش کی گئی، بچوں اور خواتین پر تشدد، جنسی امتیاز اور دہشت گردی میں بچوں کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزادیِ اظہار کو درپیش خطرات کت بات کی۔

پاکستان میں انسانی آزادیوں پر نظر رکھنے والے معتبر صحافی حسین نقی کہتے ہیں کہ ’ہمارے یہاں ایک طریقے سے یہ روایت پڑ گئی ہے کہ کسی چیز کو نہ مانو یہ اچھی بات نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت خود کو اس معاملے میں آگے لے جائے گی اور ان تمام نکات کا بہتر جواب دے گی۔ پہلے تو وہ ان باتوں کو تسلیم کرے گی اور پھر صورتحال میں تبدیلی کے لیے اقدامات کرے گی'۔

پاکستان میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی ساڑھے چار برس کے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ مرتب کی جسے جائزے کے موقع پر اقوام متحدہ کو پیش کیا گیا۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ستائیس پہلووں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ یہ رپورٹ تیار کرنے والوں میں سے ایک انسانی حقوق کے کارکن پیٹر جیکب بھی ہیں۔

پیٹر جیکب کہتے ہیں کہ’حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ حقائق بیان نہیں کر سکتی لیکن ہم کر سکتے ہیں۔ ہم نے تشدد سے متعلق معاہدے پر دستخط تو کیے لیکن اپنے قومی قوانین میں وہ تبدیلیاں نہیں کیں کہ تشدد کا خاتمہ ہو سکے۔ بچوں کے حقوق کے لیے بھی یہاں بیورو بنائے گئے لیکن کسی نے ان کی کارگردگی کی نگرانی نہیں کی۔ توہین مذہب کا قانون ہو یا خواتین کے تحفظ کا معاملہ ہم نے اپنی رپورٹ میں تمام معاملات کا احاطہ کیا‘۔

اقوام متحدہ کے رکن ملکوں نے پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کے سات معاہدوں کی توثیق، انسانی حقوق کے کمیشن کے قیام، خواتین کے خلاف گھریلو تشدد جنسی طور پر ہراساں کرنے اور تیزاب پھیکنے کی سزاوں میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔

جائزے کے موقعے پر ذرائع ابلاغ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز‘ یا سرحدوں سے ماورا صحافی نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کسی بھی صحافی کے قتل کے مقدمے کی نتیجہ خیز تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ تنظیم نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو مسلح گروہوں سے تحفظ دے۔

انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کا معیادی جائزہ اس سے پہلے دو ہزار آٹھ میں پیش کیا گیا تھا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے چند ماہ بعد اس وقت بھی پاکستان میں صورتحال پریشان کن ہی تھی اور اب جبکہ جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی ہے انسانی حقوق کو آج بھی خطرات درپیش ہیں بس اب ان کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔