بلوچستان: اسلم بھوتانی کے اجلاس پر تحفظات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 02:11 GMT 07:11 PST

اسلم بھوتانی کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے ہوتے ہوئے اجلاس بلانا توہینِ عدالت ہوسکتا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے اسمبلی کے آئندہ طلب کیے گئے اجلاس کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی نے اس ماہ کی نو اور دس تاریخ کو جنوبی شہر گوادر میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں وزیرِ اعظم کی شرکت بھی متوقع تھی۔

اسلم بھوتانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے بارے درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں دیے گئے ریمارکس کے پیشِ نظر اجلاس بلانا توہینِ عدالت ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری اپنے ریمارکس میں کہہ چکے ہیں کہ ’بلوچستان میں ہر بااختیار آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔۔۔۔ اگر صوبے میں آئین پر ہی عمل نہیں ہو رہا تو پھر صوبے میں حکومت کس اختیار کے تحت چلائی جا رہی ہے‘۔ سپریم کورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت اپنا آئینی حق کھو چکی ہے۔

اسلم بھوتانی نے اس سلسلے میں صوبے کے گورنر سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔

اس سے پہلے بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اخلاقی طور پر بلوچستان حکومت کا کوئی جواز نہیں ہے اور اسے مستعٰفی ہوجانا چاہیے ۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت دو نومبر تک ملتوی کر دی تھی۔

دوسری جانب جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ وہ دو نومبر کو عدالتِ عظمیٰ میں اپنی حکومت کے اتحادیوں کے ہمراہ پیش ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم قانون اور آئین کے تحت اپنا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوں گے۔‘ وزیرِ اعلی کے مطابق ان کی حکومت کو اتحادیوں اور صوبے کی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔