’سی این جی کی موجودہ قیمت برقرار رکھیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 09:33 GMT 14:33 PST

سپریم کورٹ نے کیس میں سی این جی ایسو سی ایشن کی جانب سے فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمعرات کو تیل اور گیس کی قیمتوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سی این جی کی موجودہ قیمت اگلی پیشی تک برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو سماعت کے دوران تیل اور گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا نے قیمتوں میں اضافے کا نیا فارمولہ پیش کیا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے قیمتوں کو بر قرار رکھنے کا حکم دیا۔

اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا دو رکنی بنچ کر رہا ہے جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ شامل ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے سی این جی ایسوسی ایشن کی جانب سے اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اوگرا نے نئے فارمولے کے تحت تجویز دی کہ گیس سٹیشن چلانے کے اخراجات ختم کر کے پیداواری اخراجات کی مد میں پانچ روپے پچھہتر پیسے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

اوگرا نے اپنے نئے فارمولے میں سی این جی سٹیشن کے مالکان کے منافع کو بھی گیارہ روپے بیس پیسے سے کم کر کے دو روپے پچانوے پیسے کرنے کی تجویز دی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے اپنا کوئی جائزہ تیار نہیں کیا بلکہ اس معاملے کو اوگرا پر چھوڑا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے سماعت کے دوران کہا کہ سی این جی ایسوسی ایشن ایک قیمتوں پر اثر انداز ہونے والا منظم گروہ بن چکا ہے اور اسے حکومت نے بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی این جی کی قیمتِ فروخت بہت کم ہے اور اوگرا کو یاد دلایا کہ اس کا بنیادی فرض صارفین کے حقوق کا تحفظ ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت پندرہ نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔