شدت پسند راشد رؤف کی موت، ایک معمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 12:32 GMT 17:32 PST

دی نیوز اخبار کے مطابق امریکہ ماضی میں دو دفعہ راشد رؤف کی ہلاکت کا دوعویٰ کر چکی ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی شدت پسند راشد رؤف کے والدین کی طرف سے برطانوی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے اعلان سے پاکستانی میڈیا میں راشد رؤف کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے میں ہلاکت پر ایک مرتبہ پھر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر ہوائی جہازوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

راشد رؤف کی موت اس سے پہلے بھی ایک معمہ بنی رہی۔

راشد رؤف ایک برطانوی شہری ہیں جنہیں اگست سنہ دو ہزار چھ میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور اسی دوران برطانیہ سے امریکہ جانے والے ہوائی جہازوں کو اڑانے کے منصوبوں کے سلسلے میں برطانیہ میں بھی گرفتاریاں ہوئیں۔

راشد رؤف دسمبر سنہ دو ہزار سات میں پولیس کی تحویل سے فرار ہوئے تھے۔ جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر جاری ہونے والی سیکورٹی الرٹ کی وجہ سے دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی جو کہ مسافروں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوئی۔

بعض کمپنیوں نے اپنے ہوائی جہازوں پر ہاتھ میں لے جانے والے سامان میں، خطرے کے پیش نظر، مائع چیزوں کی بوتلیں لے جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے اہل کاروں نے راشد رؤف کی قبل از وقت گرفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا۔

یہ اچھی خبر نہیں

سنڈے ٹائمز نے تئیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ پیٹر کلارک کے حوالے سے لکھا ’یہ ایک اچھی خبر نہیں ہے۔ ہم ان کے خلاف کیس تیار کر رہے تھے۔ اگر یہ بات پھیلتی ہے کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے تو ثبوت ختم کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ پریشان کن بات یہ کہ بے چینی کے عالم میں وہ کوئی حملہ کر سکتے ہیں۔‘

سنڈے ٹائمز نے تئیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ پیٹر کلارک کے حوالے سے لکھا ’یہ ایک اچھی خبر نہیں ہے۔ ہم ان کے خلاف کیس تیار کر رہے تھے۔ اگر یہ بات پھیلتی ہے کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے تو ثبوت ختم کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ پریشان کن بات یہ کہ بے چینی کے عالم میں وہ کوئی حملہ کر سکتے ہیں۔‘

راشد رؤف دہشت گردی کے الزام میں کچھ عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست رہے۔ تاہم ناکافی ثبوت کی بنیاد پرانسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نےانھیں بری کر دیا لیکن ان کو جلد ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان پر دھماکہ خیز مواد لےجانے اور جعل سازی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔

اسی دوران برطانوی حکام بھی دہشت گردی کے کیس میں نہیں بلکہ ان کے چچا کے قتل کیس میں پاکستانی حکام سے راشد رؤف کی حوالگی کا مطالبہ کرتے رہے۔

لیکن جب دسمبر سنہ دو ہزار سات میں انھیں اسلام آباد کی ایک عدالت میں حوالگی کے کیس میں پیشی کے لیے لایا گیا تو واپسی پر وہ ہتھکڑیاں توڑ کر پولیس سے فرار ہو گئے۔

اس واقعہ کی وجہ سے نو پولیس اہلکاروں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا اور ’راشد رؤف فرار کیس‘ کے سلسلے میں ہونے والی انکوائری کے بعد ملزم اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔

بعض ماہرین نے سوال اٹھایا کہ آیا کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے خفیہ ادارے چاہتے تھے کہ راشد رؤف فرار ہوں۔

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں راشد رؤف کی ہلاکت کی خبر پہلی دفعہ نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو آئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے بڑے رہنما ابوالاسر المصری بھی اس ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

کئی حلقوں نے راشد رؤف کی موت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

پاکستانی اخبار جنگ نے راشد رؤف کی بیوی کے حوالے سے خبردی کہ انھوں نےحکومت سے دفنانے کے لیےراشد رؤف کی لاش کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈان اخبار نے چھبیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو راشد رؤف کے وکیل حشمت حبیب کے حوالے سے لکھا ’ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ حکومت راشد رؤف کی لاش نکال کر ورثاء کے حوالے کرے۔‘

پاکستان کے اخبار نوائے وقت نے گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار نو کو ایک خبر میں برطانوی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ راشد رؤف زندہ ہیں اور برطانیہ پر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

اخبار دی نیوز میں اکتیس اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ کو شائع ہونے والی ایک اور خبر کے مطابق اپریل سنہ دو ہزار نو میں برطانوی حکام نے پاکستانی حکام سے راشد رؤف کو گرفتار کرنے میں مدد کی درخواست کی۔ اخبار کے مطابق برطانیہ کی طرف سے پاکستان سے مدد کی درخواست نے اس دعوے کی تردید کی کہ راشد رؤف بائیس نومبر سنہ دو ہزار آٹھ کو شمالی وزیرستان کے گاؤں علی خیل میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

خبر کے مطابق برطانوی حکام نے پاکستان کو بتایا کہ بلجیئم میں گرفتار القاعدہ کے ایک کارکن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں راشد رؤف نے تربیت دے کر برسلز میں ایک اجلاس میں شریک یورپ کے رہمناؤں پر خودکش حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ راشد نے بلجیئم، فرانس، ہالینڈ اور انگلینڈ میں دہشت گرد حملے کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔

پاکستان کے اخبار جنگ اور دی نیوز نے راشد رؤف کے خاندان کی طرف سے برطانیہ کی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے اعلان کو اس بات کے ثبوت کے طور پر لیا ہے کہ راشد رؤف ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

دی نیوز اخبار میں اکتیس اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ کو شائع ہونے والی تین کالمی خبر میں کہا گیا کہ مسعود اظہر کے رشتہ دار ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

خبر میں لکھا گیا تھا کہ مشکوک حلات میں پولیس کی حراست سے دسمبر سنہ دو ہزار سات کو فرار ہونے والے راشد رؤف کی موت کا ماضی میں امریکہ نے دو دفعہ دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ لانگ وار جرنل نے انتیس اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ کے ایک مضمون میں لکھا ’القاعدہ کے رہنماء راشد رؤف کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔