سندھ: بیوی کو زخمی کرنے پرخاوندگرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 12:54 GMT 17:54 PST

زخمی لالی بھیل کو کراچی کے جناح ہپستال میں منتقل کر دیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کی ناک، کان اور چھاتی کو بلیڈ سے زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

یہ واقعہ گزشتہ ہفتے وسطی سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیش آیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بھٹ شاہ میں چھاپہ مارکر ملزم مارو بھیل کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ملزم مارو بھیل نے صحافیوں کو بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بھائی اور والد گرفتار ہیں تو انہوں نے گرفتاری دینے کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس سے پہلے ہی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

ملزم مارو بھیل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی بیوی لالی بھیل پر بد کرداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’انہوں نے کئی بار لالی کو روکا مگر لالی نے ان کی بات نہیں مانی۔‘

ملزم کا کہنا تھا کہ ’وہ تنگ آ کر بیوی کو اپنے بھائی کے گھر سانگھڑ شہر لے آئے مگر وہاں بھی لالی کے رشتے دار پہنچ گئے، ایک روز جب اس کا بھائی بیوی بچوں کے ساتھ گیا ہوا تھا تو انہوں نے لالی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔‘

مارو بھیل نے بتایا کہ’وہ لالی کے منہ پر کپڑا باندھ کر اسے قریبی فصل میں لے گئے، جہاں لالی کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ کر بلیڈ کی مدد سے کان، ناک اور چھاتی کو زخمی کر دیا۔‘

پلاسٹک سرجری کی ضرورت

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لالی بھیل کے ناک، کان اور چھاتی کی پلاسٹک سرجری کی ضرورت پڑے گی، صوبائی وزیر اقلیت امور موہن کوہستانی نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہے اور انہیں ایک لاکھ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مارو بھیل مزدوری کرتے ہیں اور ان کے تین بچے ہیں، اس واقعے میں ایک نومولود بچہ ہلاک بھی ہوگیا تھا۔ مارو بھیل کا کہنا ہے کہ بچہ پیروں تلے دب کر ہلاک ہوا۔

زخمی لالی بھیل کو کراچی کے جناح ہپستال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لالی بھیل نے ملزم کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق’مارو بھیل انہیں جنگل میں لے گیا جہاں رسی سے باندھ کر ناک، دونوں کان اور چھاتی کو زخمی کیا اور اس کے بعد وہاں ہی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔‘

مسمات لالی کا دعویٰ ہے کہ ان کے نومولود بیٹے کو مبینہ طور پر گلہ گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے، کیونکہ ان کے شوہر کا الزام تھا کہ یہ بچہ اس کا نہیں کیونکہ اس کی شکل مختلف ہے۔

لالی بھیل اور ان کے شوہر مارو بھیل دونوں کا تعلق ضلع سانگھڑ سے ہے اور دونوں کی شادی کو چھ سال ہو چکے ہیں۔

اپنی بیٹی لالی کو علاج کے لیے کراچی لانے والے آچر بھیل نے بتایا کہ میاں بیوی میں رنجش تو گزشتہ چار سالوں سے تھی مگر ایک سال قبل مارو کی بہن کے بیوہ ہونے کے بعد اس میں شدت آگئی۔

آچر بھیل نے بتایا کہ مارو نے انہیں شکایت کی تھی کہ اسے لالی کے کردار پر شک ہے ، جس کے بعد وہ اپنی بیٹی کو اپنے پیر باقر شاہ کی مزار پر لے گئے تھے جہاں اس نے قسم لی تھی کہ اس پر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لالی بھیل کے ناک، کان اور چھاتی کی پلاسٹک سرجری کی ضرورت پڑے گی، صوبائی وزیر اقلیت امور موہن کوہستانی نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہے اور انہیں ایک لاکھ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔