سکول پر حملہ، بچوں کا احتجاجی مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 17:32 GMT 22:32 PST

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار مقامی نجی سکول کے پرنسپل کی رہائی کے لیے دائر ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

دوسری جانب نجی سکول کے بچوں نے اپنے والدین اور اساتذہ کے ہمراہ توہین مذہب کے الزام میں اپنے سکول کے جلائے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کے وکیل جواد اشرف کے مطابق سنیچر کو عدالت نے ایک مختصر فیصلے میں درخواست ضمانت مسترد کی اور ابھی اس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔

لاہور پولیس نے تین روز قبل نجی سکول کی خاتون ٹیچر اور اس کے مالک عاصم فاروقی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا تھا۔

خاتون ٹیچر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک طالبہ کو ایسے پرچے کی فوٹی کاپی تقسیم کی جس پر توہین آمیز کلمات درج تھے۔

سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ درسی کتاب کے پھٹے ہوئے صفحے کی وجہ سے ہونے والی مبینہ غلطی کو توہین مذہب کہا جا رہا ہے تاہم مشتعل افراد نے سکول کی عمارت پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ کی اور سامان کو آگ لگا دی۔

سکول جلائے جانے کے خلاف بچوں کا احتجاج

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار مقامی نجی سکول کے عمررسیدہ پرنسپل کی درخواست ضمانت مسترد کردی جبکہ دوسری جانب نجی سکول کے بچوں نے اپنے والدین اور اساتذہ کے ہمراہ سکول جائے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

سنیچر کو لاہور کے علاقے راوی روڈ میں نجی سکول کے بچے یونیفارم میں ملبوس صبح آٹھ بجے سکول کی عمارت کے باہر جمع ہوئے۔ ان بچوں نے سکول کے بستوں کے بجائے ہاتھوں میں مختلف کتبے اٹھا رکھے تھے۔

بچوں نے سکول کی عمارت کے باہر قومی ترانہ پڑھا اور اس کے بعد اپنے سکول کے سامان کوجلانے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرہ کرنے والے بچے ’ہمیں انصاف دو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

احتجاج میں شامل بچے اپنے سکول کی حالت کو دیکھ کر افسردہ تھے۔

مظاہرے میں شامل طالبہ اقراء فاروق نے کہا کہ ’اگر خدا نخواستہ توہین مذہب کا یہ واقعہ کسی مسجد میں پیش آیا ہوتا کیا سکول کی طرح مسجد کو جلا دیا جاتا‘۔

سکول کی خواتین اساتذہ جب عمارت کے اندر داخل ہوئیں تو عمارت کی حالت کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئیں اور اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔

سنبل نصیر نے کہا کہ ’جیسے کسی کے جنازے پر سوگ ہوتا ہے بالکل ویسے ہی ہے‘۔

ان کے بقول اسی مقام پر وہ اپنی تمام چھوٹی بڑی خوشیاں شیئر کرتے تھے لیکن جب اس جگہ پر آگ لگی تو ایسا لگا کہ اپنے گھر کو آگ لگ گئی لیکن وہ بے بس تھے۔

خواتین اساتذہ ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتیں رہیں اور ان کا کہنا تھا کہ سکول میں توڑ پھوڑ کرنے اور اس کا سامان جلانے والوں کو کسی کے مستقبل سے کوئی پرواہ نہیں۔

ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ جس سکول کو نقصان پہنچایا گیا اس سے کئی لوگوں کا روزگار وابستہ تھا اور کئی گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں۔

خواتین اساتذہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں

بچوں کے اس احتجاج میں شامل ان کے والدین جہاں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں وہیں ان کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ سکول کو ضلعی حکومت کی تحویل میں نہ دیا جائے۔

والدین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری سکول اتنے اچھے ہوتے تو پھر نجی سکول میں بچوں کو داخل کروانے کی کیا ضرورت تھی۔

ان کے بقول وزیر اعلیٰ پنجاب خود کو تعلیم دوست کہتے ہیں تو وہ سکول کو اس کی پرانی حالت میں بحال کروائیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور سکول کا کنٹرول ضلعی حکومت کو دینے کے بجائے سکول کی انتظامیہ کے سپرد کیا جائے۔

ادھر جواد اشرف ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کے موکل عاصم فاروقی عمر رسیدہ ہیں اور تفتیش میں بھی انہیں بے گناہ قرار دیا گیا ہے ۔

ان کے بقول عاصم فاروقی عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں تاہم وکیل کے مطابق عدالت نے ان کی رہائی کا حکم نہیں دیا۔

سکول پرنسپل کے وکیل جواد اشرف کے مطابق اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔