’خاندان کی عزت کے لیے بیٹی کو قتل کیا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 00:31 GMT 05:31 PST

بیٹی نے گھر کے سامنے ایک نوجوان کی طرف دیکھا تو اسے منع کیا تھا کہ وہ راہ چلتے لوگوں کو نہ دیکھا کرے: محمد ظفر

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تیزاب سے جل کر ہلاک ہونے والی پندرہ سالہ لڑکی والدین نے کہا ہے کہ انھوں نےخاندان کی عزت کی خاطر اپنی بیٹی کا قتل کیا ہے۔

انوشہ ظفر کو گزشتہ ہفتے جنوبی ضلع کوٹلی کے گاؤں سید پور میں تیزاب پھینک کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس نےلڑکی کے والدین کو گرفتار کر لیا ہے۔

کھوئی رٹہ کے تھانے کی حوالات میں بند محمد ظفر اور ان کی اہلیہ ذہین اختر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بیٹی کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا۔

محمد ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے منگل کی شام کو ان کی بیٹی نےگھر کے سامنے ایک نوجوان کی طرف دیکھا تو اس نے بیٹی کو منع کیا تھا کہ وہ راہ چلتے لوگوں کو نہ دیکھا کرے۔’ میں نے پہلے بھی اسے (انوشہ) یہ کہا تھا کہ بڑی بیٹی کی وجہ سے ہماری بے عزتی ہوئی تھی اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ذلیل ہوں لیکن اس نے بات نہیں سنی۔‘

تریپن سالہ محمد ظفر نے بتایا کہ رات گیارہ بجے کے قریب جب انوشہ پڑھ رہی تھی، تو میں نے اسے اپنے کمرے میں بلوایا۔ ’میں نے اس سے کہا کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور میں نے اس کو دو تھپٹر مارے۔ اتنے میں میری بیوی نے تیزاب کی بوتل اس کے سر پر انڈیل دی۔‘

ساتھ ہی حوالات میں قید ان کی بیوی ذہین اختر یہ مانتی ہیں کہ انہوں نے بیٹی کے سر پر خود ہی تیزاب پھینکا اور انھیں ایسا کرنے کے لیے شوہر نے نہیں کہا تھا۔

شوہر نے بیٹی کی شکایت کی تو میں نے غصے میں آ کر تیزاب کی بوتل بیٹی کے سر پر انڈیل دی: :ذہین اختر

ذہین اختر نے کہا ’انہوں ( شوہر) نے جب شکایت کی تو مجھے غصہ آیا اور میں نے خود اس کے سر پر تیزاب ڈال دیا۔‘

والدہ کہتی ہیں کہ اب انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بہت تکلیف میں رہی۔

خود ماں کے دائیں بازو پر بھی تیزاب کے زخم کے نشان ہیں جبکہ لڑکی کے والد کے بازو، ہاتھ اور پاؤں تیزاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں رات ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کو بر وقت ہسپتال نہیں پہنچا سکے۔

اگلے روز جب وہ کوٹلی میں واقع ڈسٹرکٹ ہسپتال میں لے کرگئے تو انوشہ اسی شام کو زخموں کی وجہ ہسپتال میں دم توڑ گئی۔

ہلاک ہونے والی بچی آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی۔

والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی بیٹی پڑھائی میں اچھی تھی اور انہیں کبھی بھی اسکول سے اس کی کوئی شکایت نہیں ملی اور اس کا رویہ بھی ٹھیک تھا۔

اب والدین یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی موت پر دکھی ہیں اور ان سے غلطی ہوئی ہے اور اب ان کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔

محمد ظفر کے بارہ بچے تھے جو اب گیارہ رہ گئے ہیں

بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ تیزاب کی وجہ سے ان کا جسم ساٹھ فیصد تک جھلسا ہوا تھا اور سر سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا جبکہ چہرہ، سینہ، بازوں، ٹانگیں اور پاؤں بھی بری طرح سے جھلس گئے تھے اور ان کے جسم کا رنگ کالا ہوچکا تھا۔

محمد ظفر نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے بارہ بچے ہیں۔ پہلی بیوی سے چار بچے جبکہ ان کے ساتھ گرفتار ہونے والی اہلیہ سے ان کے آٹھ بچے تھے جن میں سے اب ایک اس دنیا میں نہیں رہیں جبکہ ایک بیٹی شادی شدہ ہیں۔

باقی دس بچے جن کی عمریں دو سال سے پندرہ سال کے درمیان ہیں گھر پر ہیں اور فی الوقت ان بچوں کی دیکھ بھال ان کے عزیز کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔