’وحیدہ شاہ نے انتخابی عمل کو زک پہنچائی‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST

وحیدہ شاہ نے اس سال فروری میں ایک انتخابی عملے کے ارکان پر ہاتھ اٹھایا تھا۔

پاکستان کے چیف الیکشن کمیشنر نے سندھ اسمبلی کی رکن وحیدہ شاہ کو دو سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم نے ہفتے کے روز کراچی میں عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ انیس سو چھہتر کی شق چھیاسی کے تحت وحیدہ شاہ کی نااہلی کا اعلان کیا۔

وحیدہ شاہ کو اس سال سولہ فروری کو سندھ کے ضمنی انتخابات کے دوران ٹنڈو محمد خان کے ایک پولنگ سٹیشن کی پریزائیڈنگ افسر حبیبہ میمن اور ان کے عملے پر ہاتھ اٹھانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے ریٹرنگ افسر کو اس واقعے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی تھی جنھوں نے پانچ مارچ دو ہزار بارہ کو عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت وحیدہ شاہ کو مجرم قرار دیتے ہوئے ان پر ایک ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس کے بعد سات مارچ کو الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی کے حلقہ تریپن کے انتخابات کو کالعدم ٹھہراتے ہوئے انھیں دو سال کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

جب یہ کیس سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوا تو عدالت نے وحیدہ شاہ کی سزا تو برقرار رکھی، البتہ یہ کہہ کر نااہلی ختم کر دی کہ متعلقہ قانون کے تحت اس کا اختیار صرف چیف الیکشن کمشنر کے پاس ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے مقدمے کی سماعت کے بعد چوبیس اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ہفتے کے روز انھوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وحیدہ شاہ نے انتخابی عمل اور جمہوریت پر اعتماد کو زک پہنچائی ہے۔

"اگر امیدواروں کو انتخابی عملے کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی تو انتخابات اور ان کے نتائج دونوں مذاق بن کر رہ جائیں گے۔"

چیف الیکشن کمیشنر فخرالدین جی ابراہیم

انھوں نے مزید کہا کہ اگر امیدواروں کو انتخابی عملے کو دھمکانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی تو انتخابات اور ان کے نتائج دونوں مذاق بن کر رہ جائیں گے، اس لیے ایسے رویے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ صوبۂ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان کی یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن سید محسن شاہ بخاری کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جس پر پارٹی نے ان کی بیوہ وحیدہ شاہ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

پچیس فروری کو ضمنی انتخاب کے دوران پر وحیدہ شاہ نے کسی بات پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پولنگ سٹاف میں شامل دو خواتین کو تھپڑ رسید کردیے تھے۔ ٹی وی کیمرہ مینوں نے اِن مناظر کو فلم بند کرلیا تھا جس کے بعد ٹی وی چینلز پر یہ مناظر بار بار نشر ہوتے رہے۔

غیرحتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخاب میں وحیدہ شاہ نے سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے اس واقعے کے بعد نتیجہ روک لیا تھا اور ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا اور وحیدہ شاہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ وحیدہ شاہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا جس پر انہوں نے پولنگ سٹاف سے معافی بھی مانگی تھی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔