آسٹریلیا: پاکستان کو جانوروں کی برآمد پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 09:26 GMT 14:26 PST

آسٹریلوی وزارتِ زراعت نے بھیڑوں میں بیماری کی اطلاعات کی تردید کی ہے

آسٹریلوی حکومت نے پاکستان کو زندہ جانوروں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ زراعت جو لڈوگ کی جانب سے پاکستانی حکام کے اکیس ہزار درآمد شدہ بھیڑوں کے ’وحشیانہ‘ انداز میں تلف کرنے پر اظہارِ تنفر اور شدید تنقید بھی کی گئی ہے۔

کراچی میں آسٹریلیا سے درآمد شدہ بھیڑوں میں بیماری کی تصدیق ہو جانے کے بعد کمشنر کراچی نے انہیں تلف کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

وزیرِ زراعت کے بیان کے بعد آسٹریلوی کاشتکاروں نے منگل کے روز پاکستان کو زندہ جانوروں کی برآمد پر کسی بھی پابندی کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے ایک آسٹریلوی چینل پر ان بھیڑوں کو تلف کرنے کے عمل کی ویڈیو دکھائی گئی جس میں واضح تھا کہ ایک شخص آری سے بھیڑوں کے گلے کاٹ کر انہیں ایک خندق میں پھینک رہا ہے۔ اس خون آلودہ خندق میں کچھ بھیڑوں کو ’بل ڈوزر‘ کی مدد سے پھینکا گیا اور ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے کہ چند جانور اگلی صبح تک وہاں زندہ تڑپ رہے تھے۔ اس ویڈیو کے بعد بھیڑوں کی تلفی کے اس انداز پر شدید تنقید کی گئی۔

اس موقع پر کراچی سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ صوبائی محکمۂ لائیوسٹاک کے تحت سندھ پولٹری ویکسین سینٹر کی ایک طبی رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ آسٹریلیا سے درآمد شدہ بھیڑوں میں انتہائی مہلک مرض موجود ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان بھیڑوں سے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ایک سو فیصد خطرناک بیکٹیریا موجود ہیں جبکہ ان میں چوالیس فیصد ای-کولی نامی بیماری بھی پائی جاتی ہیں۔ آسٹریلیا کی ایک نجی کمپنی نے یہ بھیڑیں بحرین کی ایک نجی کمپنی کو برآمد کی تھیں لیکن بحرین نے ان بھیڑوں پر شبہ ظاہر کیا اور انہیں لینے سے انکار کردیا جس کے بعد پاکستان کی ایک نجی کمپنی نے ان بھیڑوں کو درآمد کیا۔

آسٹریلوی وزارتِ زراعت نے بھیڑوں میں بیماری کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستانی حکام کے نہ تو اس فیصلے کی اور نہ ہی جانوروں کو تلف کرنے کے اس انداز کی وجہ معلوم ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر قائم ہیں کہ بھیڑوں کی تلفی اور اس کا انداز دونوں ہی غیر ضروری تھا۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں زندہ جانور برآمد کرنے والے ایک سو ممالک میں سے آسٹریلیا واحد ملک ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر جانوروں کی بہتر نشو نما کے معیار کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ برآمدات روکنے سے ہونے والے نقصان کے نتیجے میں ملک میں جانوروں کی دیکھ بھال کا معیار گرے گا۔

آسٹریلیا کی زندہ جانوروں کی برآمدات تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر تک کی مالیت کو پہنچ جاتی ہیں اور اس صنعت میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں۔

گذشتہ سال آسٹریلیا نے ایک ماہ کے لیے انڈونیشیا کو زندہ جانوروں کی برآمدات بھی ایسے ہی خدشات کے پیشِ نظر روک دیں تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔