صدارتی انتخابات: پاکستانی میڈیا کی خصوصی نشریات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 01:22 GMT 06:22 PST

پاکستان کا الیکڑانک میڈیا امریکہ کے صدارتی انتخابات کو غیر معمولی جگہ دیتے ہوئے تجزیوں، تبصروں اور خصوصی پروگرامز کے علاوہ انتخابی نتائج کے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ بھی نشر کر رہا ہے۔

پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا یعنی نجی ٹی وی چینلز منگل کی رات بھر امریکی صدارتی انتخابات پر خصوصی رپورٹس چلاتے رہے اور ناظرین کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتے رہے۔

کئی ٹی وی چینلز بڑی سکرین پر امریکی ریاستوں کا نقشہ بنا کر یہ بتاتے رہے کہ کون سی ریاستیں واضح طور پر ریپبلکن جماعت کی ہیں اور کون سی ڈیموکریٹک جماعت کی۔

تمام ہی بڑے ٹی وی چینلز نے اپنے نمائندے صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے امریکہ بھیجے ہوئے ہیں۔

لیکن جہاں یہ تمام نقشے اور خصوصی رپورٹس تیار کیے گئے ہیں چند نجی ٹی وی کے ’ٹکرز‘ یا سرخیاں کچھ اس طرح بھی تھیں ’صدارتی امیدوار کو جیتنے کے لیے دوسو ستر الیکٹورل ووٹ درکار ہیں: غیر ملکی ٹی وی‘۔

جیسے جیسے ووٹنگ کا مرحلہ ختم ہوتا گیا اور گنتی کا عمل شروع ہوا تو کئی ٹی وی چینلز پر براہ راست پروگرام شروع ہو گئے۔

کچھ ٹی وی چینلز پر تو براہ راست تبصرے شروع ہو گئے اور جیسے جیسے معلومات آتی رہیں اس پر تبصرے اور تجزیے ہوتے رہے۔

ٹی وی چینلز پر ساری رات مختلف پیکجز میں یہ معلومات فراہم کی گئیں کس ریاست میں کون سی جماعت کس سال جیتی۔ اس کے علاوہ کن ریاستوں سے سب سے زیادہ امریکی صدور بنے اور کون سی ریاست نے جس امیدوار کے حق میں ووٹ دیے وہ ہمیشہ صدر بنا۔

لیکن جہاں یہ معلومات دی گئیں وہاں نتائج آنے کے ساتھ ہی ’تازہ ترین خبر‘ کی دوڑ لگ گئی۔ اور ہیڈ لائنیں کچھ اس طرح کی تھی: ’وائٹ ہاؤس کا اگلا مکین کون؟ فیصلے کی گھڑی آ پہنچی‘ اور ’امریکی تاریخ کی کانٹے دار ۔۔۔ مہنگی ترین سیاسی جنگ‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔