رینجرز ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 08:20 GMT 13:20 PST

رینجرز ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ

پاکستان میں سکیورٹی اداروں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ کل پشاور میں پولیس پر ایک خود کش حملے کے بعد آج کراچی میں رینجرز کے ایک دفتر پر حملہ ہوا۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں واقع سچل رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر ایک خودکش حملے میں کم از کم تین اہلکار ہلاک اور اکیس زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی میں سچل رینجرز کے ترجمان میجر سبطین رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور نے رینجرز ہیڈ کوارٹر کے اندر رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں دھماکہ خیز مواد سے لدا ایک چھوٹا ٹرک استعمال کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔

دریں اثناء تحریک طالبان ملاکنڈ ڈویژن کے ترجمان مولانا سراج الدین نے بی بی سی سے رابطہ کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال میں منتقل کیا گیا جن میں سے چند افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

آئی جی سندھ پولیس فیاض لغاری کے مطابق یہ دھماکہ خودکش تھا جس کی پہلے سے اطلاعات موجود تھیں۔ فیاض لغاری کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سو کلو گرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا۔

دھماکے میں رینجرز کے ایک زخمی اہلکار نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایک گاڑی دفتر کے گیٹ کو توڑ کر عمارت کے احاطے میں داخل ہوئی جس کے درخت سے ٹکرانے کے بعد دھماکہ ہوا۔

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے میں اکیس رینجرز اہلکار زخمی ہوگئے ہیں

ہمارے نامہ نگار نے رینجرز اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ اس عمارت میں تقریباً سو سے ڈیڑھ سو رینجر اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ دھماکے میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹر کی چار منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دھماکے کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔

یاد رہے کہ اس حملے سے ایک روز قبل ہی کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش کا آغاز ہوا ہے جس میں ٹینک، توپیں اور دیگر اسلحہ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔