’متبادل توانائی کے نرخ مقرر کرنے کی ہدایت‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 17:44 GMT 22:44 PST

پاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس کے خلاف مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

پاکستان میں مشترکہ مفادات کی کونسل نے بجلی کے نرخوں کا تعین کرنے والے ادارے ’نیپرا‘ کو ہدایت کی ہے کہ کوئلے، شمسی توانائی، ہوائی چکیوں اور ایتھنول سے بجلی بنانے کے لیے جلد نرخ مقرر کیے جائیں تاکہ صوبے اور نجی شعبہ نئے بجلی گھر لگائیں۔

یہ بات جمعرات کو مرکز اور صوبوں میں اختلافائی معاملات طے کرنے کے اعلیٰ سطحی آئینی فورم ’سی سی آئی‘ کے اجلاس میں کہی گئی۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور بعض وفاقی وزراء شریک ہوئے۔

مشترکہ مفادات کی کونسل یعنی’سی سی آئی‘ کے اجلاس میں شریک سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر چنگیز خان جمالی سے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں توانائی کے بحران اور بجلی کے نرخ، منرل یا معدنی پالیسی جیسے معاملات زیر غور آئے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی کے ترسیل کے ادارے ’کے ای ایس سی‘کو فراہم کی جانے والی تین سو میگاواٹ بجلی صوبوں کو فراہم کیے جانے پر اتفاق ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کا موقف تھا کہ صارفین کی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے بجلی تقسیم کی جائے۔

’نیپرا کو ہدایت دی گئی ہے کہ کوئلے، شمسی توانائی، ہوائی چکیوں اور ایتھنول سے بجلی بنانے کے لیے جلد نرخ جلد از جلد مقرر کیے جائیں تاکہ صوبے اور نجی شعبہ اپنے منصوبے لگا سکی۔

وفاقی وزیر چنگیز خان جمالی نے بتایا کہ اجلاس میں اس کے علاوہ تعلیم کا شعبہ بھی زیر غور آیا۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ تعلیم کی وزارت وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے اس سے بین الاقوامی ڈونرز یا تعلیم کے شبعے میں امداد دینے والے اداروں کے ساتھ وفاقی حکومت ہی کام کرے گی، لیکن اس ضمن میں حاصل ہونے والا فائدہ صوبوں کو منتقل کیا جائے گا۔

عام انتخابات سے قبل نگران حکومت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی ایک کمیٹی ہفتہ دس روز میں بیٹھے گی اور اس حوالے سے بات کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔