طالبان سے جھڑپ میں اہلکار سمیت پانچ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 13:19 GMT 18:19 PST

طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپوں میں ایک اہلکار اور چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا کے جنوب میں تقریباً چالیس کلومیٹر دور صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب درجنوں مسلح عسکریت پسندوں نے سکاؤٹس کے ایک قلعے توئی خولا پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ لڑائی دو گھنٹے تک جاری رہی اور اس دوران فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ لڑائی میں سکاؤٹس کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے جب کہ جوابی حملے میں چار عسکریت پسند مارے گئے۔

تاہم دوسری طرف خود کو تحریکِ طالبان پاکستان محسود گروپ کے ترجمان ظاہر کرنے والے ایک شخص عاصم محسود نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے فون کرکے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اس کارروائی میں ایک درجن کے قریب سیکیورٹی اہلکار ہلاک کیے گئے ہیں جب کہ ایک کو زندہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان کی سرحد بلوچستان کے ضلع ژوب سے ملی ہوئی ہے، جب کہ سکاؤٹس قلعہ توئی خولا دونوں علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔

اس علاقے میں دوتانی اور سلیمان خیل قبائل آباد ہیں۔ یہ علاقہ دیگر مقامات کے مقابلے میں نسبتًا پرامن رہا ہے اور یہاں دہشت گردی کے واقعات بھی کم دیکھنے میں آئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔