امریکی وزیر خارجہ اور پاکستان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 00:51 GMT 05:51 PST

اسلام آباد کی طرح واشنگٹن ڈی سی میں بھی قیاس آریاں چلتی رہتی ہیں۔ ملک کے باقی حصوں میں اگرچہ اس بات کی فکر ہے کہ اوباما کی انتظامیہ ٹیکس اور قرضوں کے مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گی تو واشنگٹن میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ کیا اوباما کی ٹیم میں ہلری کلنٹن وزیر خارجہ کے طور پر رہیں گی یا ریٹائر ہو جائیں گی۔

امریکہ چھوڑیں، پاکستانی سفارتی حلقوں میں اس بات پر کافی دلچسپی ہے کہ وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی جگہ کون اس عہدے کو سنبھالے گا۔ واشنگٹن میں مقیم بعض پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کلنٹن پاکستان کو سمجھتی ہیں اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے وقت معاملات کو قابو میں رکھنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سفارتی تعلقات میں اپنایت کا پہلو شامل کیا۔ کئی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ کلنٹن کا پہلا فرض سابق صدر جارج بش کے دور میں امریکہ کی خراب شبیہ کو سدھارنا تھا جسے انہوں نے بخوبی نبھایا۔

بطور وزیرِ خارجہ، ان کے لیے لیبیا میں امریکی سفیر کا قتل سب سے بڑا حالیہ چیلنج ثابت ہوا اور اس بات پر اوباما انتظامیہ پر کڑی تنقید ہوئی۔ کچھ باتیں یہ بھی چل رہی تھیں کہ لیبیا کے واقعے سے کلنٹن کی ساکھ داغدار ہوئی اور وہ نقصان کے ازالے کے لیے ایک اور سال اس عہدے پر فائض رہیں گی۔

تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے پاکستان کے ماہر مائیکل کوگلمن اس سے متفق نہیں ہیں۔ ’کوئی بھی امریکی وزیرِ خارجہ چار سال پورے کرنے کے بعد مدت بڑھاتا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بھی اوباما انتظامیہ کی وہ سب سے مقبول اہلکار تھیں۔ سب ان کی عزت کرتے ہیں۔ ان کا ارادہ نہیں لگتا۔ ان کی نگاہیں شاید اگلے انتخابات میں صدر کے عہدے پر ہیں۔‘

"ہلری کلنٹن کی جگہ لینا بہت مشکل ہے لیکن جان کیری کافی قابل امیدوار ہیں۔ جب لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ اٹھا تو جان کیری کو پاکستان میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے بھیجا تھا۔"

مائیکل کوگللمن

وزیرِ خارجہ کے عہدے کے لیے کئی نام گردش کر رہے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی سفیر سوزن رائس بھی شامل ہیں۔ لیکن وہ بھی لیبیا کے معاملے کا شکار نظر آتی لگ رہی ہیں۔

مائیکل کوگلمن کے مطابق خارجہ پالیسی پر مہارت اور ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق کی وجہ سے جان کیری کا نام سرِ فہرست ہے۔ ’ہلری کلنٹن کی جگہ لینا بہت مشکل ہے لیکن جان کیری کافی قابل امیدوار ہیں۔ جب لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ اٹھا تو جان کیری کو پاکستان میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے بھیجا تھا۔‘

یاد رہے کہ جان کیری خارجہ امور کی سینٹ کی کمٹی کے سربراہ بھی ہیں اور دو ہزار چار کے انتخابات میں انہیں جارج بش نے شکست دی تھی۔

لیکن جو بھی وزیرِ خارجہ ہوں گے پاکستان کو کوئی تبدیلیوں کی توقع رکھنی چاہیے؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں ’نہیں‘۔

تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹذیز کے جنوبی ایشیا کے ماہر معید یوسف کہتے ہیں ’کام ویسے ہی چلتا رہے گا۔ لیکن پاکستان اور خطے میں کئی تبدیلیاں آرہی ہیں جس سے تعلقات میں شاید فرق پڑے۔ پہلے تو پاکستانی انتخابات ہیں اور پھر دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہے۔‘

"کام ویسے ہی چلتا رہے گا۔ لیکن پاکستان اور خطے میں کئی تبدیلیاں آرہی ہیں جس سے تعلقات میں شاید فرق پڑے۔ پہلے تو پاکستانی انتخابات ہیں اور پھر دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہے۔"

معید یوسف

معید یوسف کا کہنا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے امریکہ اور پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں ہم آہنگی لانی ہو گی۔ ’اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں، تو پاکستان عالمی سطح پر اکیلا رہ جائے گا کیونکہ سارا قصور اسی پر ٹھہرایا جائے گا۔‘

لیکن مائیکل کوگلمن کہتے ہیں کہ اگرچہ دونوں ممالک اتفاق نہیں کرتے، ان کا مفاد ایک نہیں ہے، جس سے آئندہ دو برس میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

’امریکہ کو پاکستان سے اپنی توقعات کم کرنی ہوں گی۔ رویہ نرم کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں آئندہ چار سال میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون محدود ہو جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن میں سب جانتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ صلح کے عمل میں افغان حکومت کی قیادت ضروری ہے۔ ’لیکن اس بات کا بھی احساس ہے ک پاکستان کا کلیدی کردار ہے کیونکہ اس کا اہم لوگوں پر اثر ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے میں اعتماد کس حد تک بحال کر سکیں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔