اقوام متحدہ دس نومبر کو ’یومِ ملالہ‘ منا رہی ہے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 09:07 GMT 14:07 PST

ملالہ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ سابق برطانوی وزیرِاعظم گورڈن براؤن

ملالہ یوسف زئی کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ دس نومبر کو ’ملالہ کے دن‘طور پر منا رہی ہے۔

’نیشنل پیس ایوارڈ‘ کی فاتح ملالہ یوسف زئی نے پاکستان میں بچوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ گذشتہ ماہ ملالہ کو طالبان نے ایک حملے میں گولی مار دی تھی۔ وہ اس وقت برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

سنہ دو ہزار نو کے اوائل میں ملالہ نے بی بی سی اردو کے لیے ایک ڈائری لکھی تھی جس میں ضلع سوات میں طالبان کے زیرِتسلط گزرنے والی زندگی کا احوال بتایا تھا۔

پاکستان کے دورے پر اقوام متحدہ کے عالمی تعلیم کے لیے خصوصی مندوب اور برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ اس دن کا مقصد پاکستان کی تین کروڑ بیس لاکھ بچیوں کے لیے تعلیم کے حق کو اجاگر کرنا ہے۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ملالہ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ملالہ کی حمایت کے لیے ایک قرارداد پر دستخط کیے گئے ہیں۔ جمعے کے روز صدر آصف علی زرداری نے بھی اس قرارداد پر دستخط کیے۔

'چینج ڈاٹ اورگ' نامی ویب سائٹ پر شروع کی جانے والی اس پٹیشن سے منسلک ایک برطانوی کارکن شاہدہ چوہدری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملالہ کو امن کا نوبیل انعام دیا جانا دنیا کو ایک واضح پیغام دے گا اور خواتین کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا‘۔

"ملالہ اور ان کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ملک میں بہت سے بہادر بچیاں اور ان کے خاندان موجود ہوں جو ہر بچے خصوصاً بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں"

گورڈن براؤن

اس موقع پر صدر زرداری نے ’وصیلہِ تعلیم‘ نامی ایک پروگرام کا بھی اعلان کیا جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ان تین کروڑ بیس لاکھ بچیوں کے خاندنوں کے لیے تعلیم کی خاطر رقوم دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے رقوم ورلڈ بینک اور برطانوی حکومت ادا کرئے گی۔ صدر زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو کامیاب بنانے میں مدد کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں تعلیم سے محروم تین سو بیس ملین لڑکیوں میں سے پچاس لاکھ سے زائد پاکستان میں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسلام آباد میں ہی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورڈن براؤن نے کہا کہ عالمی برادری غربت سے نمٹنے اور بچوں کو تعلیم کے یقینی مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ملالہ اور ان کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ملک میں بہت سے بہادر بچیاں اور ان کے خاندان موجود ہوں جو ہر بچے خصوصاً بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں‘۔

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دس نومبر کو ’یومِ ملالہ‘ منانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے ملالہ یوسف زئی کے والد نےکہا تھا کہ وہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ملالہ یوسف زئی کی حمایت کی اور ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔

برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال نے ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاءالدین یوسف زئی کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ملالہ یوسف زئی کی صحت کے لیے دعا کی اور اس کے عظیم مقاصد کی حمایت کی جن میں تعلیم، اظہارِ رائے کی آزادی شامل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر سے ہر رنگ، نسل اور قومیت کے لوگوں نے ملالہ کے لیے پیغامات بھجوائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔