ساتھ چلو یا گُم ہوجاؤ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 14:08 GMT 19:08 PST

کچھ تو حقائق ہوتے ہیں اور کچھ تصورات ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ حقائق کی جگہ لے لیتے ہیں اور کئی نسلیں اور بہت سا وقت گذرنے کے بعد ایک دن ہمیں اچانک جھٹکا لگتا ہے کہ جسے ہم حقیقت سمجھ کر قبول کرتے رہے وہ تو محض ایک فسانہ ہے۔

جیسے جب گلیلیو نے اعلان کیا کہ دنیا گول ہے تو پوپ اور اس کے حواری ہل کے رہ گئے جنہیں ڈیڑھ ہزار برس سے یہی معلوم تھا کہ دنیا چپٹی ہے۔گلیلیو قید خانے میں ڈال دیا گیا لیکن دنیا دوبارہ چپٹی نہ ہوسکی۔

اور پھر کوپر نیکس کی اس خبر نے تو فکری زلزلہ برپا کردیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ ایک سیارہ ہے اور سورج زمین کے گرد نہیں گھومتا بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

پھر ڈارون نے تو یہ اعلان کرکے انسانی نخوت کی پوری عمارت ہی اڑا دی کہ انسان کہیں الگ سے اور اچانک نمودار نہیں ہوا بلکہ حیوانی ارتقائی زنجیر کی ہی ایک ترقی یافتہ کڑی ہے۔

گو یہ ساڑھے تین ہزار سالہ یونانی تصور تو فکری سطح پر تیرہ سو برس پہلے ہی رسول اللہ نے پاش پاش کردیا تھا کہ نسلی برتری بھی کوئی شے ہوتی ہے یا گورے کو کالے پر فوقیت حاصل ہے۔ مگر سائنسی لحاظ سے بھی یہ بات بیسویں صدی میں طے ہوگئی کہ رنگ کی بنیاد پر خود کو اعلی اور دوسرے کو گھٹیا سمجھنا ایک پست درجے کی بے وقوفی ہے۔ کیونکہ تمام انسان ایک ہی طرح کے جینز لے کر پیدا ہوتے ہیں اور کھال کے رنگ کا فرق کسی ایک انسانی جینز میں محض اعشاریہ صفر صفر صفر نو کےفرق کے سبب ہے۔

ترقی کرنی ہے تو۔۔۔

"پچھلے تین سو برس میں یہ بات درجنوں بار طے ہو ہو کر کئی کئی شکلوں میں ثابت ہوچکی ہے کہ اگر کسی فرد یا قوم کو ترقی کرنی ہے تو پھر جذباتیت، اسلافی تفاخر، جھوٹی انا، کھوکھلے نظریاتی دعووں اور دنیا کو فتح کرنے کے نشے سے چھٹکارا پا کر عقل کی بنیاد پر پُرامن بقائے باہمی کے فلسفے کے تحت تعلیم و تربیت پر پورے وسائل لگاتے ہوئی ذہن کو توہمات کے قید خانے سے نکال کر مکمل تخلیقی آزادی دینی پڑے گی۔"

لیکن کسی تصور کا سائنسی و فکری سطح پر ردّ ہونا اور انسانی ذہن کا اس تصور سے چھٹکارا پانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ تصور تو ایک منٹ میں مسترد ہوجاتا ہے لیکن اس سے انسان کی جان چھوٹنے میں بہت عرصہ لگ جاتا ہے۔

جیسے افغانیوں سے انیسویں صدی میں جوتے کھانے کے باوجود برطانیہ میں، جاپانیوں سے انیس سو پانچ میں ہارنے کے باوجود روس میں، دوسری عالمی جنگ میں آریائی برتری کا ہٹلری بت ٹوٹنے کے باوجود جرمنی میں، بنگالیوں سے جان چھڑا کر بھاگنے کے باوجود پاکستان میں، ویتنامیوں سے پِٹنے کے باوجود امریکہ میں آج بھی کوئی نا کوئی شخص، گروہ یا ادارہ نسلی و مذہبی تفاخر اور جنگجو نسل ہونے کے نشے میں لڑکھڑاتا رہتا ہے۔

اگرچہ پچھلے تین سو برس میں یہ بات درجنوں بار طے ہو ہو کر کئی کئی شکلوں میں ثابت ہوچکی ہے کہ اگر کسی فرد یا قوم کو ترقی کرنی ہے تو پھر جذباتیت، اسلافی تفاخر، جھوٹی انا، کھوکھلے نظریاتی دعووں اور دنیا کو فتح کرنے کے نشے سے چھٹکارا پا کر عقل کی بنیاد پر پُرامن بقائے باہمی کے فلسفے کے تحت تعلیم و تربیت پر پورے وسائل لگاتے ہوئی ذہن کو توہمات کے قید خانے سے نکال کر مکمل تخلیقی آزادی دینی پڑے گی۔

پھر بھی شوقِ جہالت ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ پھر بھی اپنے اپنے کنوئیں سے باہر دیکھنے کی یوں ہمت نہیں پڑ رہی کہ اندھیرے کی عادی آنکھیں ترقی کے سورج سے کہیں چندھیا نہ جائیں۔ پھر بھی اپنے گریبان میں جھانکنے اور اسے قابلِ عمل تصورات کی سوئی سے سینے کا حوصلہ نہیں پیدا ہو رہا۔ ڈر ہے کہ اگر بوسیدہ خیالات کی یہ پوشاک بھی پھٹ گئی تو چھپانے کو کیا رہ جائے گا۔

بری خبر یہ ہے کہ اس گلا کاٹ دنیا کو خود ترسی کے مرض میں مبتلا لوگوں اور معاشروں سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی یعنی یا تو ساتھ چلو، یا پھر گمنامی کی دھول میں گم ہوجاؤ۔ فل سٹاپ۔۔۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔