بلوچستان: اسمبلی اجلاس طلب کرنے پر اختلافات برقرار

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 00:06 GMT 05:06 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے قائم مقام گورنر محمد اسلم بھوتانی کی جانب سے تیرہ نومبر کو اسمبلی کے طلب کردہ اجلاس کی منسوخی کے چند گھنٹے بعد اسمبلی کے قائم مقام سپیکر سید مطیع اللہ آغا نے اس اجلاس کو دوبارہ اسی روز طلب کر لیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے بارہ نومبر کو قائم مقام گورنر بلوچستان کا عہدہ سنبھالنے کے اگلے روز اسمبلی کے اس اجلاس کو منسوخ کرکے ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی۔

اسلم بھو تانی نے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے یہ اجلاس سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم کی روشنی میں منسوخ کیا جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوکر اپنا حق حکمرانی کھو چکی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد وزیراعلیٰ اور سپیکر کے اختلافات نہ صرف شدت اخیتار کر گئے ہیں بلکہ وہ اپنے اختیارات کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچھا دکھانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔

صحافی محمد کاظم کے مطابق اسلم بھوتانی ایک ایسے وقت میں وزیراعلیٰ کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں جب وہ پہلے ہی سے سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم کے باعث ایک مشکل سے دوچار ہیں۔

سپریم کورٹ کے بارہ اکتوبر کے عبوری حکم کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نے نو نومبرکو گوادر میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی تجویز بھیجی تھی تاہم اسلم بھوتانی نے سپیکر کی حیثیت سے یہ اجلاس بلانے سے انکار کرتے ہوئے گورنر بلوچستان سے وضاحت طلب کی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد موجودہ حکومت کی آئینی حیثیت کا تعین کریں۔

وزیر اعلی کے لیے اسمبلی کا اجلاس اہم

سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد بلوچستان اسمبلی کا یہ اجلاس وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس اجلاس کے ذریعے انہوں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں بدستور اسمبلی کے اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے اسے سپریم کورٹ میں اپنی حکومت کی آئینی اتھارٹی کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا ہے۔

سپیکر کی جانب سےگوادر میں اسمبلی اجلاس میں رکاوٹ کے بعد وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کو اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے لیے ایڈوائس بھیجی تھی جس پر گورنر نے یہ اجلاس تیرہ نومبر کو کوئٹہ میں طلب کیا تھا لیکن بارہ نومبرکو گورنر مگسی کے متحدہ عرب امارات روانگی کے بعد جب سپیکر اسلم بھوتانی نے قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے جو پہلا حکم جاری کیا وہ اس اجلا س کی منسوخی کا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد بلوچستان اسمبلی کا یہ اجلاس وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس اجلاس کے ذریعے انہوں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں بدستور اسمبلی کے اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے اسے سپریم کورٹ میں اپنی حکومت کی آئینی اتھارٹی کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا ہے۔

قائم مقام گورنر کی جانب سے اجلاس کی منسوخی کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تیرہ نومبر ہی کو اجلاس منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے مطلوبہ اراکین کی تعداد کی جانب سے ایک ریکویزیشن دی گئی جس پر قائم مقام سپیکر نے اس اجلاس کو رات گئے دوبارہ تیرہ نومبر کو طلب کر لیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ سپیکر بلوچستان اسمبلی وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک نواب اسلم رئیسانی کو بلوچستان اسمبلی کی جانب سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔

نواب اسلم رییسانی کو نہ صرف اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی اکثریت سمیت مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ وفاقی حکومت نے بھی عبوری حکم کے حوالے سے نظرثانی کی درخواست دائر کرکے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔