امن مذاکرات کے لیے افغان وفد اسلام آباد میں

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 18:23 GMT 23:23 PST

اپنے والد برہان الدین ربانی کی وفات کے بعد صلاح الدین ربانی نے افغان مفاہمت کے عمل کی باگ دوڑ سنبھالی تھی۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔

دریں اثناء پاکستان نے افغان حکومت سے پاکستان کی حدود کے اندر سرحد پار سے فائرنگ کے حوالے سے شدید احتجاج کیا ہے۔

افغانستان میں مزاحمت کار گروہوں سے مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ برس اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب افغان امن کونسل کے سربراہ سابق صدر برہان الدین ربانی ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

صلاح الدین ربانی اپنے والد کی ہلاکت کے بعد افغان امن کونسل کے سربراہ بنے ہیں۔ برہان الدین ترکی میں افغانستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔

افغان امن کونسل کے اراکان اس دورے کے دوران پاکستان کے اعلیٰ سطحی عہدیدران سے افغانستان میں امن کے عمل کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

افغان امن کونسل کے سربراہ نے پیر کی شام اپنے وفد کے ہمراہ وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی جس میں باہمی امور پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں ممالک کو خطے کی سلامتی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

صلاح الدین ربانی نےاپنے میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے عوام سویت یونین کے خلاف جدوجہد میں پاکستانی عوام کی حمایت کے مشکور ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر گولہ باری کے بارے میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے دونوں ممالک میں زیادہ ہم آہنگی ہونی چاہیے۔

"افغان گروہ دو سال پہلے کی نسبت اب مفاہمت کے لیے زیادہ تیار ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسے کئی گروہ ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف لڑائی کی اور وہ طالبان کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہم ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں"

محمد صادق

کابل میں پاکستان کے سفیر محمد صادق نے ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند گروہوں کی امن مذاکرات میں شمولیت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان گروہ دو سال پہلے کی نسبت اب مفاہمت کے لیے زیادہ تیار ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسے کئی گروہ ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف لڑائی کی اور وہ طالبان کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہم ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

افغان امور کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ افغان امن کونسل کے دورہ پاکستان کے لیے تیاری نہیں ہوئی ہے اور شاید اس دورے کا کوئی فائدہ بھی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ طالبان افغان حکومت کو مانتے نہیں ہیں اور امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

انہوں نےکہا کہ طالبان نےگزشتہ مارچ قطر میں امریکہ سے ہونے والے مذاکرات کو یہ کہہ کر ختم کر دیا تھا کہ امریکہ گوانتاموبے میں قید پانچ طالبان رہنماؤں کو امریکی فوجی کے بدلے رہا کرنے سے اپنے وعدے سے پھر گیا ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ امریکہ میں صدر براک اوباما کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات شاید دوبارہ شروع ہو سکیں۔

سرحد پار سے گولہ باری پر احتجاج

فائل فوٹو، پاک افغان سرحد

پاکستان نے اتوار کی شام سرحد پار سے گولہ باری کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس نے پاکستان میں افغان سیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے انہیں اس حملے پر شدید تحفظات سے آگا کیا۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے دفتر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیکرٹری خارجہ نے حملے کو غیر سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے مدد کی بجائے صرف اس سازگار ماحول کو نقصان پہنچے گا جو پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ حملہ اور اس پر احتجاج ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں اس تازہ تلخی کا دورے پر منفی اثر ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کی شام کو نزنارائی کے علاقے میں ہونے والی اس فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے شامل ہیں۔

پی ٹی وی نے پاکستان فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغان افواج نے کئی چوکیوں پر فائرنگ کی اور ایک سو بائیس ایم ایم کے مارٹر گولے برسائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔