متنازع اجلاس، وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST
فائل فوٹو، بلوچستان اسمبلی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے ایک منتازع اجلاس میں وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی پر اعتماد کی تحریک کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

صوبے کے قائم مقام گورنر اور سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی نے منگل کو بلائے گئے اجلاس کو منسوخ کر دیا تھا تاہم اس کے بعد اسمبلی کے قائم مقام سپیکر سید مطیع اللہ آغا نے منگل کو ہی دوبارہ اجلاس طلب کر لیا تھا۔

دریں اثناء بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان کی موجودہ حکومت اپنا قانونی حثیت کھو چکی ہے۔

کلِک بلوچستان: اسمبلی اجلاس طلب کرنے پر اختلافات برقرار

کلِک ’بلوچستان پر عدالت کا عبوری حکم نامہ برقرار ہے‘

اسلم بھو تانی نے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے یہ اجلاس سپریم کورٹ کے اس عبوری حکم کی روشنی میں منسوخ کیا جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوکر اپنا حق حکمرانی کھو چکی ہے۔

منگل کو اسمبلی کے اجلاس میں موجود چوالیس اراکین نے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی پر اعتماد کی تحریک کو متفتہ طور پر منظور کیا۔

اس کے علاوہ اجلاس کے آغاز پر صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں ایک قرار داد پیش کی گئی۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی اسلم بھوتانی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اسمبلی اجلاس کو غیر آئینی سمجھتے ہیں

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس قرار داد کے ذریعے سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں کو یہ پیغام بھیجنے کی کوشش کی گئی کہ بلوچستان اسمبلی اپنے طور پر صوبے میں امن و مان میں بہتری کے لیے بھرپور کوششیں کرے گی۔

سپیکر اسلم بھوتانی کے ساتھ صلح کے حوالے سے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوششیں کی گئی ہیں تاہم اسلم بھوتانی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ ابھی تک موجودہ اسمبلی کو غیر آئینی سمجھتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس اجلاس میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہیں اسمبلی میں اکثر کی حمایت حاصل ہے اور موجودہ حکومت کی آئینی اتھارٹی برقرار ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے آئندہ سماعت کے موقع پر موجودہ اجلاس کو اپنی اتھارٹی برقرار رہنے کے طور پر پیش کریں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر ان کی حکومت متاثر ہوئی ہے تو اس صورت میں انہوں نے دوبارہ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے۔

دریں اثناء بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد سردار یار محمد رندنے اجلاس طلب کیے جانے پر اسلام آباد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان کی موجودہ حکومت اپنا قانونی حثیت کھوچکی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواب اسلم رئیسانی وزارت اعلیٰ سے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں اور آئندہ انتخابات تک کے لیے نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔