پاکستانی مارکیٹوں میں چینی مصنوعات کم قیمت پر

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 17:16 GMT 22:16 PST

پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی توازن نہیں ہے اور پاکستان کو چین سے تجارت میں ڈھائی ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے

’سب چائنا سب چائنا بابا ۔۔۔ سو میں سو میں ۔۔۔ سب چائنا بابا‘ ایسی آوازیں کراچی کے تجارتی مرکز صدر کی ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں جا بجا سننے کو ملتی ہیں۔

کراچی میں چین سے درآمد شدہ سامان سڑکوں اور دکانوں پر جا بجا فروخت ہوتا نظر آتا ہے جو پچاس روپے سے کئی ہزار روپے تک قیمت میں دستیاب ہے۔

کراچی کے تجارتی مرکز صدر میں فٹ پاتھ کے کنارے ایک پتھارے پر مہران خان گھڑیاں فروخت کرتے ہیں۔

’ہمارے پاس سب چائنا ہے۔ ہمارے پاس اچھا کوالٹی بھی ہوتا ہے ہلکا کوالٹی بھی ہوتا ہے اور بات کوالٹی کا ہوتا ہے۔ پچاس والا بھی ہوتا ہے، سو والا بھی، دو سو والا بھی ہوتا ہے، پھر ہم اپنے حساب سے بیچتا ہے۔ سستا ہے اس لیے لوگ لیتا ہے، ابھی جاپان والا کون پہنے گا ۔۔۔ چھیننے والا کم ہوتا ہے کراچی میں کیا۔‘

بازار میں موجود ایک خریدار محمد جاوید کا کہنا تھا کہ وہ چین کا سامان اس لیے خریدتے ہیں کہ سستا ملتا ہے۔ ’جو چیز پانچ سو روپے کی ملتی ہے وہ چائنا کی سو میں مل جاتی ہے تو ہم غریب آدمی چائنا کا مال ہی خریدیں گے تو غریب کا فائدہ تو چائنا کا سستا مال خریدنے میں ہے۔‘

چین نہ صرف کھلونے، جوتے، اور دیگر اشیاء میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ موبائل فون اور الیکٹرونک آلات میں بھی اپنی جگہ بنالی ہے۔ کراچی کے تجارتی مرکز صدر میں واقع ایک الیکٹرونکس کی دکان کے مالک فرقان احمد کا کہنا ہے کہ لوگ چین کی مصنوعات اس لیے خریدتے ہیں کہ وہ مہنگی نہیں ہوتیں۔

ان کے بقول پہلے ورایٹی اتنی نہیں تھی، اب نئی نئی چیزیں مارکیٹ میں آرہی ہیں اور چین وہ چیزیں سستی بنا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں لوگوں کو جب جدید ٹیکنالوجی سستے میں دستیاب ہے تو وہ چین کا سامان کیوں نہ خریدیں۔

کراچی کے ایوانِ تجارت و صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی حجم میں گزشتہ سات سال کے دوران بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ حجم ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی برآمدات اور کوئی چار ارب ڈالر کی درآمدات ہیں۔ پاکستان جو اشیاء چین سے منگواتا ہے ان میں سر فہرست مشینری، کیمیکلز، گارمنٹس، کراکری، الیکٹرونک مصنوعات اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

پاکستانی تاجروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے باعث چین میں قیادت کی تبدیلی کے باوجود دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس میں مزید بہتری آئے گی

چین سے مختلف اشیاء درآمد کرنے والے ایک بڑے تاجر اور کراچی ایوان صنعت و تجارت کے صدر ہارون اگر کا کہنا ہے کہ چین میں قیادت کی تبدیلی سے پاکستان اور چین کے تجارتی تعلقات پر کوئی اثر مرتب ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ چین کے ساتھ پہلے ہی دیرینہ تعلقات ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی توازن نہیں ہے اور پاکستان کو چین سے تجارت میں ڈھائی ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ہارون اگر کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارے کی بڑی وجہ چین کی مصنوعات کا دنیا میں سستا ہونا ہے جن کا پاکستانی صنعت مقابلہ ہی نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایسی مصنوعات کو درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں مہنگائی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے اور دیگر مسائل بھی ہیں جن کے باعث مصنوعات کی لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

تاجروں کے بقول پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی خسارے کو کم کرنا بہت مشکل ہے لیکن پاکستان سے معدنیات چین برآمد کرنے والے ایک بڑے تاجر مجید عزیز کا کہنا ہے پاکستان بلاشبہ ٹیکسٹائل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے لیکن چین کو ٹیکسٹائل کی نہیں معدنیات کی ضرورت ہے اور پاکستان کو چین کی ضرورتوں کو مدِ نظر رکھنا ہوگا، جس سے نہ صرف پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی تاجروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے باعث چین میں قیادت کی تبدیلی کے باوجود دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔