وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 05:29 GMT 10:29 PST

اگر ہر ادارہ اپنی اپنی کریز میں کھیلتا رہے تو ملک بڑی ترقی کر سکتا ہے: فاروق نائیک

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او عمل درآمد کیس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کردیا ہے۔

یاد رہے کہ آٹھ اگست کو سپریم کورٹ نے این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کی۔

بدھ کو سماعت کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق حکومت نے سوئس حکام کو خط بھجوا دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ سماعت کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں سوئس حکام کو خط بھجوانے سے متعلق دستاویزات پیش کیں۔ ان دستاویزات کے ساتھ پاکستانی سفیر کے خط موصول ہونے اور اُس کے بعد سفیر کیجانب سے لکھے گیے خط کی کاپی بھی عدالت میں پیش کی۔

صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات شروع کرنے اور ختم کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے اٹارنی جنرل نے سوئس اٹارنی جنرل کو خطوط لکھے تھے جبکہ اس مقدمات کی بحالی کے لیے سیکرٹری قانون کی طرف سے خط لکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے عدلیہ سے طویل قانونی تنازعے کے بعد سات نومبر کو سوئٹزرلینڈ کے حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط بھیجا تھا۔

" سماعت کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کافی مطمعین دکھائی دے رہے تھے۔ اُنہوں نے سوئس حکام کو بھجوائے گئے خط کی کی دستاویزات پیش کیں اور عدالت سے مطالبہ کردیا کہ وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لیا جائے۔ وزیر قانون نے متعدد بار یہ مطالبہ دہرایا۔ سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جنہوں نے این آر او کے تحت صدر زرداری کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔ ملک قیوم چھ ماہ کے بعد عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ "

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ نے سولہ دسمبر سنہ دوہزار نو کو این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات اُسی دن سے دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس روز سے یہ آرڈیننس لاگو کیا گیا تھا۔

وزیر قانون نے کہا کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے کے پیراگراف ایک سو اٹھتر پر مکمل طور پر عمل درآمد کردیا گیا ہے اس لیے عدالت وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت سے متعلق اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لیا جائے۔ اس پیراگراف میں سپریم کورٹ نے حکومت کو سوئس مقدمات پر کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کوکہا تھا۔

یہ مقدمات صدر اصف علی زردرای کے خلاف تھے جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد یہ مقدمات واپس لیے گئے تھے۔

وزیر قانون کی استدعا پر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لے لیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے این ار او عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مجرم قرار دیا تھا جس کے بعد اُنہیں وزارات عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

سماعت کے بعد فاروق ایچ نائیک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتی۔ انھوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کی بڑی عزت کرتے ہیں، اسی لیے ان کے حکم کی تعمیل میں خط لکھا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔