’آئی ایس آئی کا سیاسی سیل ختم کرنے کا کہا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 05:13 GMT 10:13 PST

ماضی کے چکروں میں پڑنے کی بجائے نگاہ مستقبل پر رکھنی چاہیے: پرویز مشرف

سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے فوجی سربراہ کی حیثیت سے آئی ایس آئی کا سیاسی سیل ختم کرنے اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو سیاست سے دور رہنے کا کہا تھا۔

دبئی میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اس بارے میں تحریری حکم تو نہیں دیا تھا لیکن باضابطہ طور پر کہا تھا کہ ان کے ادارے کی سیاست میں مداخلت ختم ہو جانی چاہیے۔

’یہ کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا لیکن ہم نے یہ سوچا تھا کہ سیاسی میدان میں آئی ایس آئی والے بالکل مداخلت نہ کریں۔‘

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ان کے سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت یا دھاندلی نہیں کی گئی اور نہ ہی ایسی کوئی شکایت سامنے آئی۔

اصغر خان کیس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک خلفشار ہے جس میں ریاست کے ستون آپس میں لڑرہے ہیں اور ان میں کشیدگی ہے جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں قید ہوکر ہم اپنے لیے خود ہی مصیبتیں کھڑی کر رہے ہیں کیونکہ پندرہ سال پرانے کیسز کو کھولنا کسی کے حق میں نہیں۔ اگر پیچھے ہی جانا ہے تو پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی ، ایوب خان بلکہ لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں بھی بات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حال اور مستقبل پر نظر رکھنے چاہیے۔

بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے

ڈرون حملوں کے بارے میں پرویز مشرف کا کہا کہ وہاں ظاہر ہے عسکریت پسند ہوتے ہیں اور یہ ڈرون عسکریت پسندوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں جس میں وہ مارے جاتے ہیں اور ڈرون حملے بہت ہی دیکھ کر نشانے پر ہوتے ہیں تاہم ان کے اردگرد کے لوگ جو مارے جاتے ہیں اس سے مسائل ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نقصان کو بہت ہی بڑھا چڑھا کر بھی بیان کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فوج کے افراد کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ ’میری نظر میں پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہورہی ہے کیونکہ فوج پاکستان میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور جسے اگر کمزور کیا جائے گا تو ملک کمزور ہوجائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ خواہ مخواہ ہی فوج کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا امریکا سے کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

’میرے صدر بش اور کولن پاؤل کے ساتھ تعلقات تھے اوراگر کوئی اٹیک ہوتا تھا تو میں انہیں ٹیلیفون کرسکتا تھا اور کرتا بھی تھا اور سخت اعتراض بھی کرتا تھا کیونکہ میرا ان کے ساتھ رابطہ تھا اور میرا ایک تعلق بھی تھا۔ مگر اب میرے خیال میں اس وقت رابطے کا فقدان ہے جس کی وجہ سے وہ دندناتے پھر رہے ہیں اور مارے جارہے ہیں۔‘

ڈرون حملوں کے بارے میں پرویز مشرف کا کہا کہ وہاں ظاہر ہے عسکریت پسند ہوتے ہیں اور یہ ڈرون عسکریت پسندوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں جس میں وہ مارے جاتے ہیں اور ڈرون حملے بہت ہی دیکھ کر نشانے پر ہوتے ہیں تاہم ان کے اردگرد کے لوگ جو مارے جاتے ہیں اس سے مسائل ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نقصان کو بہت ہی بڑھا چڑھا کر بھی بیان کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال جنوری میں پاکستان جانے کا ارادہ حالات کی وجہ سے ملتوی کیا تھاتاہم ایک مرتبہ عبوری حکومت آجائے اور انتخابات کا ذرا ڈھانچہ نظر آئے تو پھر میں فیصلہ کروں گا مگر میں پاکستان ضرورجاؤں گا اور انتخابات میں حصہ بھی لون گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔