’جج ڈر کےدہشتگردوں کو رہا کر دیتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 13:08 GMT 18:08 PST

بعض ’اہم شخصیات‘ دہشتگرد تنظیموں کو حمایت کرتی ہیں: وزیر داخلہ رحمان ملک

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے سینکڑوں دہشت گرد گرفتار کیے لیکن ججوں نے اپنے اہل خانہ کو لاحق خطرات کی وجہ سے تین ماہ کے اندر سب کو رہا کر دیا۔

یہ بات انہوں نے چودہ نومبر کو کراچی میں امن و امان کے بارے میں کابینہ کو بریفنگ کے دوران بتائی۔ ان کے بقول کراچی اور کوئٹہ میں قتل کی وارداتوں میں کالعدم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کابینہ کو مزید بتایا کہ انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کو خط لکھا تھا کہ انتہائی مطلوب دہشتگرد ملک اسحٰق کو گرفتار کیا جائے مگر انہوں نے اُسے ایک معمولی کیس میں گرفتار کیا اور پھر ان کی ضمانت ہوگئی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ لاقانونیت کی سب سے بڑی وجہ دہشتگرد تنظیموں کو کچھ ’اہم شخصیات‘ کی پشت پناہی حاصل ہونا ہے۔ ان کے بقول محرم کے دوران کراچی میں قتل کی وارداتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔

وزیر داخلہ نے کابینہ کو بتایا کہ کالعدم لشکر جھنگوی، شیعوں کے قتل میں ملوث ہے اور کوئٹہ میں قتل کی بھی وہی تنظیم ذمہ دار ہے۔

بی بی سی کو سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر بالخصوص کراچی میں قتل عام پر دو گھنٹے سے زائد دیر تک گرما گرم بحث ہوئی۔ جس میں وزیر قانون فاروق نائیک سمیت کئی وفاقی وزراء وزیر داخلہ پر برس پڑے۔

کراچی کی صورتحال پر گرما گرم بحث کی وجہ سے ایجنڈا ادھورا رہ گیا اور سات نکات پر غور آئندہ اجلاس تک ملتوی کیا گیا۔

پاکستان میدان جنگ بن گیا ہے

"جو ممالک دہشتگردوں کی مدد کرتے ہیں ان کے ساتھ سفارتی سطح پر سختی سے نمٹا جائے۔ پاکستان دوسرے ممالک کی جنگوں کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔"

پاکستان وزراء

فاروق نائیک نے وزیر داخلہ سے تین سوال کیے کہ ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار کون ہے؟ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ کراچی کا امن بحال کرنے اور ٹارگٹ کلنگ بند کرنے کا طریقہ کیا ہے؟۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراء نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ خود یا صدرِ پاکستان کراچی کی صورتحال پر اجلاس بلائیں اور اس میں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، اور جماعت اسلامی کو بھی مدعو کریں۔

کچھ وزراء نے کہا کہ سندھ میں لاقانونیت انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔ ’امریکہ، برطانیہ، سری لنکا کو بھی دہشتگردی کا سامنا تھا اور جب وہ موثر قانون سازی کے ذریعے اس پر قابو پاسکتے ہیں تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔؟

کابینہ میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ ایک وزارتی کمیٹی بنائی جائے جو انسداد دہشتگردی کے قوانین، خصوصی عدالتوں اور ان کے اختیارات اور فوری سماعت کے بارے میں قانون سازی کی سفارشات مرتب کرے۔ لیکن اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

وفاقی کابینہ میں بلوچستان کی صورتحال پر بعض وزراء نے بات کی اور وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو کور کمانڈر کوئٹہ، بلوچستان کی صوبائی قیادت اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے سربراہوں کو بلا کر فوری طور پر معاملہ حل کرنا چاہیے۔

عدالت نے ملک اسحاق کو ضمانت پر رہا کر دیا

کابینہ کے اجلاس میں وزراء نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں سب کو پتہ ہے۔ جو ممالک دہشتگردوں کی مدد کرتے ہیں ان کے ساتھ سفارتی سطح سختی سے نمٹا جائے۔

بعص وزراء نے کہا کہ پاکستان دوسروں کی جنگوں کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔ دہشتگردوں کی مالی مدد کرنے والے ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر کوششوں کے بارے میں وزارت خزانہ نے کبھی ٹھوس معلومات نہیں دی۔

کابینہ کے اجلاس میں طویل بحث کے بعد طے پایا کہ کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے گا جس میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گروہوں کی نشاندہی کریں اور اس اجلاس میں متعلقہ حکام کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔