اصغر خان کیس، فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 11:31 GMT 16:31 PST

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور وہ کسی گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا

وفاقی حکومت نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی ہے تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر کورٹ فیس منسلک نہ ہونے کا اعتراض لگا کر اسے واپس کر دیا ہے۔

سنیچر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر کی جانے والی سولہ صفحات پر مشتمل درخواست میں صدر کے عہدے سے متعلق ریمارکس کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق درخواست میں کہا گیا کہ عدالت کو صدر سے متعلق ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں اور وہ اصغر خان کیس میں صدر سے متعلق آبزرویشن واپس لے۔

درخواست کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کے پاس ایگزیکٹیو اختیارات نہیں رہے اور صدر سے متعلق آبزرویشن میں آئین کے آرٹیکل دو سو سات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصغر خان کیس انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں تھا اور اس میں صدر کے عہدے کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے عدالت کو اس معاملے پر خیالات ظاہر نہیں کرنے چاہیے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اصغرخان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کے لیے اس وقت کے آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اُس وقت کے صدرسے متعلق کہا تھا کہ غلام اسحاق خان نے ایوانِ صدرمیں جو سیاسی سیل قائم کیا وہ غیر آئینی اورغیر قانونی تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور وہ کسی گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کر سکتا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ سابق صدر نے اس معاملے میں کیا کردار ادا کیا یہ اُن کے علم میں نہیں ہے تاہم عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا گیا ہے اُس کے مطابق ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل موجود نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صدر کو سیاسی کردار ادا کرنے سے متعلق کوئی قدغن نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اُن کے موقف کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر آئی جے آئی کی تشکیل میں سابق صدر غلام اسحاق خان کا اقدام بھی درست تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔