’پاکستان کا مطلب کیا، ہندو سکھ مسیحی جا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 14:08 GMT 19:08 PST

بھگت سنگھ تو لائل پور میں پیدا ہو کر لاہور میں پھانسی چڑھا!

دلکش لاہور کمیٹی نے شہر کے تیرہ انڈر پاسوں، چھ چوراہوں، چار موٹروے انٹر چینجز اور دو سڑکوں کے نام تاریخی شخصیات کے ناموں پر رکھنے کی منظوری دے دی۔ ان پچیس تاریخی شخصیات میں تحریک ِ آزادی کے ایک جنگجو بھگت سنگھ، پاکستان کے پہلے وزیرِ قانون جوگندر ناتھ منڈل اور سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس اے آر کارنیلئس سمیت تین غیر مسلم بھی شامل ہیں۔

تاریخی شخصیات سے اہم عمارات، تنصیبات اور شاہراہیں منسوب کرنا کسی بھی ملک میں معمول کی بات ہوگی مگر پاکستان میں کسی بھی معمولی کا غیر معمولی بننا دائیں ہاتھ کی چھنگلی کا کھیل ہے۔ چنانچہ ان پچیس ناموں میں سے ایک یعنی بھگت سنگھ کو جماعت الدعوۃ سمیت کچھ مذہبی تنظیموں کی حمایت یافتہ تحریکِ حرمتِ رسول نے لاہور ہائی کورٹ میں گھسیٹ لیا اور استدعا کی کہ شادمان چوک کا نام بھگت سنگھ پر رکھنے کے سرکاری فیصلے کو منسوخ کر کے اس کا نام لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی پر رکھا جائے۔

پٹیشنر کے وکیل کا موقف ہے کہ شادمان چوک کا نام بدلنے کے پیچھے مضبوط بھارتی لابی اور بھارت نواز انسانی حقوق کے نام نہاد کارکن ہیں جو حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شادمان چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھنا قرآن و سنت کے منافی عمل ہے اور یہ عمل انیس سو ستانوے کے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے دائرے میں بھی آتا ہے۔

چنانچہ ہائی کورٹ کے فاضل جج نے اس درخواست کی روشنی میں نام تبدیل کرنے کے سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا پر پابندی لگاتے ہوئے سرکار کو اگلی پیشی پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔

یہ خبر پڑھنے کے بعد میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ برطانیہ میں اگر کسی چوراہے، پارک یا سڑک کا نام بھگت سنگھ پر رکھنے کی کسی کوشش کو چیلنج کیا جاتا تو بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن لاہور کے ایک پٹیشنر نے بھگت سنگھ کے نام کو کیوں چیلنج کیا؟

اور یہ کہ حرمتِ رسول کی تحریک کا بھگت سنگھ سے کیا تعلق بنتا ہے؟ کیا بھگت سنگھ کو انگریزوں نے توہین ِرسالت کے جرم میں پھانسی دی تھی؟

اور کسی چوک کا نام بھگت سنگھ رکھنے کا عمل قرآن و سنت کے منافی کیسے ہے؟ اس بارے میں کون سی آیت ، حدیث یا آئمہِ کرام کے فتوے کا اطلاق ہوتا ہے؟

اور یہ اقدام انسدادِ دہشت گردی ایکٹ مجریہ انیس سو ستانوے کے دائرے میں کیوں کر آتا ہے؟ کیا جس ایکٹ کے تحت بھگت سنگھ پر انیس سو تیس میں مقدمہ چلا، اسی ایکٹ کا نام بعد میں بدل کر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ مجریہ انیس سو ستانوے رکھ دیا گیا؟

اور یہ کہ جو بھارتی لابی نئی دلی کے اورنگ زیب روڈ کا نام آج تک نہ بدلوا سکی اسے لاہور کے ایک چوک کا نام بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے نہ رکھنے سے کیوں دلچسپی ہے؟ جب بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تب نہ پاکستان تھا نہ بھارت، صرف برٹش انڈیا تھا۔ اور بھگت سنگھ تو لائل پور میں پیدا ہو کر لاہور میں پھانسی چڑھا؟ تو پھر بھارتی لابی اس معاملے میں کیوں کودی ۔ اور دلکش لاہور کمیٹی اپنے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ) خلیل الرحمان رمدے سمیت اس لابی کے سحر میں کب اور کیسے مبتلا ہوگئی؟ اور سحر میں مبتلا ہونے کے باوجود اس نے ایک انڈر پاس کا نام چوہدری رحمت علی کے نام پر کیسے رکھ دیا؟ اور اس کے باوجود پٹیشنر کیوں بضد ہے کہ شادمان چوک کا نام بھگت سنگھ چوک کے بجائے چوہدری رحمت علی چوک رکھا جائے۔

کیا پٹیشنر ، وکیل اور فاضل جج تاریخ سے نابلد ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر عدالت نے پٹیشن کو سماعت کے قابل کیسے سمجھا؟ یقیناً کوئی نہ کوئی ٹھوس قانونی بنیاد ضرور ہوگی؟

شادمان چوک کا نام رحمت علی یا بھگت سنگھ چوک کے بجائے اگر حافظ محمد سعید چوک رکھ دیا جائے تو کیا یہ معاملہ خوش اسلوبی سے سلجھ جائے گا؟

اور اس کے بعد لاہور پولیس کے ٹریفک وارڈن گلاب سنگھ کی ڈیوٹی اگر حافظ سعید چوک پر لگ گئی تب کیا ہوگا؟ پھر ایک پٹیشن ؟؟؟؟؟

ویسے یہ کہنے میں اب اور کتنی دیر ہے؟

پاکستان کا مطلب کیا،

ہندو ، سکھ ، مسیحی جا

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔