بلوچستان حکومت میں شامل جماعتوں کا اجلاس

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST
اسلم رئیسانی

سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اسلم بھوتانی اور پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت کا اصرار ہے کہ وزیر اعلی اقتدار چھوڑ دیں۔

بلوچستان کی حکومت میں شامل جماعتوں کا ایک غیر معمولی اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت بلوچستان کے وزیرِ اعلی نواب اسلم رئیسانی نے کی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں بدامنی سے متعلق سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ حکومت بلوچستان نہ صرف حکمرانی کا آئینی اختیار کھوچکی ہے بلکہ اسے سات سو کے قریب ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز کا استعمال کرنےکا بھی حق نہیں ہے۔

اجلاس میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور دیگر حکومتی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں سمیت بتیس وزراء نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز بحال کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ کابینہ کے ارکان نے محرم الحرام کے دوران صوبے میں قیام امن کے لیے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اجلاس کے بارے میں پہلے سرکاری طور پر یہ کہا گیا کہ یہ صوبائی کابینہ کا غیر رسمی اجلاس ہے لیکن اجلاس کے بعد سینیئر صوبائی وزیر عبدالواسع نے اسے بلوچستان کی حکومت میں شامل جماعتوں کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس قرار دیا۔

بلوچستان میں بدامنی سے متعلق سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے بعد صوبے میں جو بحرانی کیفیت پائی جاتی ہے اس کے بعد یہ صوبائی حکومت کا پہلا اجلاس تھا۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا جن اسکیموں کے فنڈز بند ہوئے ہیں ان میں سڑکوں کی تعمیر، ڈیمز، صحت اور تعلیم کے کئی ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

اجلاس میں محرم الحرام کے موقع پر صوبے میں امن وامان کے لیے ہونے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور حساس مقامات پر فرنٹیزر کور کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ بھی ہوا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے بعد صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسلم بھوتانی اور پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت کا اصرار ہے کہ وزیر اعلی اقتدار چھوڑ دیں۔

گزشتہ ہفتے ہی بلوچستان اسمبلی نے وزیر اعلی پر اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد انہوں نے پارلیمانی گروپ کے ارکان کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔