قاضی حسین احمد کے جلسے کے قریب دھماکہ

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 07:41 GMT 12:41 PST

دھماکے کا شکار افراد قاضی حسین احمد کے جلسے میں جا رہے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حُسین احمد کے جلسے کے قریب خودکُش دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ پیر کو صدر مقام غلنئی سے تقریباً چھ کلومیٹر دور تحصیل علیم زئی میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ غائب چوک کے قریب ہونے والے حملے میں قاضی حُسین احمد کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے۔ اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ خودکُش حملہ آور ایک خاتون تھی لیکن آزاد ذرائع سے حملہ آور کے خاتون ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اہلکار کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر ضلع ہنگو کے علاقے کوٹ کئی میں نامعلوم افراد نے ایک پرائمری سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سکول میں نامعلوم شدت پسندوں نے دو دھماکے کیے جس سے سکول کے تین کمرے اور چاردیواری مکمل طور تباہ ہوگئی۔

ابھی تک کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔