توہینِ مذہب:رمشا کا نام مقدمےسے نکالنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 05:10 GMT 10:10 PST

پاکستان کی تاریخ میں رمشا وہ پہلی کمسن ہیں جن پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسیحی لڑکی رمشا مسیح کا نام توہینِ مذہب کے مقدمے سے خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

رمشا مسیح پر مقدس مذہبی اوراق نذرِ آتش کرنے کا الزام تھا اور ان کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

منگل کو اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ ملزمہ کو کسی نے بھی قرآنی اوراق جلاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اقبال حمیدالدین کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات لگاتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور کسی مسلم یا غیر مسلم کے خلاف بےبنیاد اور غلط الزامات نہیں لگانے چاہیئیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں رمشا وہ پہلی کمسن ہیں جن پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا۔

اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کی رہائشی رمشا کو رواں برس سولہ اگست کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

ان کی ضمانت گُزشتہ ماہ منظور کی گئی تھی اور ضمانت پر رہائی کے بعد وفاقی حکومت نے حفاظتی نکتۂ نظر سے رمشا اور اُن کے اہلخانہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے رمشا مسیح نام توہین عدالت کے مقدمے سے خارج ہونے کے باوجود بھی اُن کی اور اُن کے اہلخانہ کی سکیورٹی واپس نہیں لی جائے گی کیونکہ ان کی زندگی کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔

"وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق رمشا مسیح اور اُن کے اہلخانہ کی زندگیوں کو ابھی تک خطرات لاحق ہیں اور وزیرِ داخلہ کے حکم پر مذکورہ مسیحی لڑکی اور اُن کے اہلخانہ کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو واپس نہیں بُلایا گیا ہے۔"

شہزاد ملک، بی بی سی اسلام آباد

اُدھر توہین مذہب کے مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے دوسرے ملزم اور مقامی مسجد کے پیش امام خالد جدون کے خلاف کارروائی چلتی رہے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت جاری ہےاور آئندہ سماعت پر پولیس اہلکاروں کے علاوہ، مقامی مسجد کے نائب خطیب حافظ زبیر اور اس مقدمے کے مدعی ملک حماد کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس نے اس مقدمے کا حتمی چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروادیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے اس مقدمے کے شواہد تبدیل کرنے اور توہین مذہب کے الزامات میں گرفتار مقامی مسجد کے پیش امام کو بھی اس وقت ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جب ان کے خلاف بیان دینے والے دو افراد اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے تھے۔

منیر حیسن جعفری کا کہنا تھا کہ اس مقدمے سے رمشا مسیح کا نام اسلام آباد ہائی کورٹ نے خارج کیا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت ایسا نہیں کر سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار ہے کہ وہ ریاست کی ایما پر اس مقدمے کے اخراج کا حکم دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔