پاکستان: بم دھماکوں اور فائرنگ سے دس ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 15:41 GMT 20:41 PST

پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں تین فوجیوں سمیت کئی افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان واقعات میں سے کراچی، بنوں اور راولپنڈی کے شہروں میں ہوالے حملوں کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

کوئٹہ میں دھماکہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور خاتون سمیت بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن سے چھاؤنی کی طرف جا رہی تھی۔

سکول کی گاڑی کے ساتھ حفاظت کے لیے تعینات فوجیوں کی گاڑی کو موٹر سائیکل پر نصب ریمورٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ لیجایا گیا جن میں سے ایک خاتون سمیت آٹھ افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

سی سی پی او کوئٹہ نے اس دھماکے کو دہشتگردی کا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد محرم الحرام کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ وزیر خان ناصر نے جائے وقوعہ پر بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں استعمال ہونے والا بم بم دیسی ساخت کا تھا جس میں پندرہ کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جسے ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

دھماکے کی جگہ سے ایک اور بم بھی برآمد ہوا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔

بظاہر اس حملے کا نشانہ فوجیوں کی گاڑی تھی کیونکہ یہ دھماکہ سکیورٹی فورسز کی گاڑی کی آمد کے ساتھ ہی کیا گیا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس کے علاوہ چھ گاڑیوں اور آٹھ موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کوئٹہ شہر میں دور دور تک سنی گئی۔

کراچی، امام بار گاہ کے قریب دھماکہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن پانچ نمبر میں واقع امام بارگاہ کے قریب دو بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین صحافیوں سمیت دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے سے ہوا اور اس کے فوری بعد دوسرا دھماکہ ہو گیا۔

ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے پہلے دھماکے کے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر پانچ میں ہوا جس میں موٹر سائیکل پر نصب ایک بم کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا۔

کراچی سے نامہ نگار کے مطابق سی آئی ڈی پولیس کے ایس پی چوہدری اسلم جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد وہاں صحافیوں سے بات کر رہے تھے کہ اس دوران دوسرا دھماکہ ہو گیا۔ دوسرے دھماکے کے نتیجے میں ایک نجی ٹی وی ’دنیا نیوز‘کی رپورٹر اور دو کمیرہ مین بھی زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ کراچی میں اس سے پہلے بھی محرم میں شدت پسندی کے کئی واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چند دن پہلے بھی کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں اتوار کو رات گئے ایک امام بارگاہ کے قریب دھماکے میں دو افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے آغاز پر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں جن میں کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی اور موبائل فون سروس کو معطل کرنا شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا: پولیس پر حملے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں اور شانگلہ میں پولیس پر دو مختلف حملوں میں ایک ایس ایچ او سمیت تین اہلکار ہلاک اور فرنٹئیر کونسٹیبلری کے تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق بنوں شہر سے دو کلومیٹر دور تھانہ جانی خیل کے علاقے میں پولیس کا قافلہ معمول کے گشت پر تھا کہ اس دوران طالبان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او اپیل خان سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور ایف سی کا ایک اہلکار شامل ہے۔

زخمیوں میں تینوں اہلکاروں کا تعلق ایف سی سے تھا جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق علاقے میں ابھی تک پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا سلسہ جاری ہے اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے۔

پشاور میں خیبر پختونخوا پولیس کے مرکزی کنٹرول روم اور بنوں پولیس کے کنٹرول روم کے مطابق اس حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح ضلع شانگلہ کی تحصیل پورن کے تھانے مارتونگ میں بمقام سیڑے پر موڑ پولیس کی گاڑی سڑک کے بچھائی گئی ایک باردی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

اس حملے کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک سپاہی میاں جہانزیب شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں علاقے کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔

پشاور میں مرکزی پولیس کنٹرول روم کے مطابق فوج اور پولیس نے علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے فون کر کے ان حملوں کی زمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملے جاری رکھے جائیں گے۔



اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔