کوئٹہ میں دھماکہ، تین فوجیوں سمیت پانچ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 11:37 GMT 16:37 PST
فائل فوٹو

فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن جا رہی تھی جب وہ دھماکے کی زد میں آگئی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور خاتون سمیت بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن سے چھاؤنی کی طرف جا رہی تھی۔

سکول کی گاڑی کے ساتھ حفاظت کے لیے تعینات فوجیوں کی گاڑی کو موٹر سائیکل پر نصب ریمورٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ لیجایا گیا جن میں سے ایک خاتون سمیت آٹھ افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

سی سی پی او کوئٹہ نے اس دھماکے کو دہشتگردی کا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد محرم الحرام کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ وزیر خان ناصر نے جائے وقوعہ پر بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں استعمال ہونے والا بم بم دیسی ساخت کا تھا جس میں پندرہ کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جسے ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

دھماکے کی جگہ سے ایک اور بم بھی برآمد ہوا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔

بظاہر اس حملے کا نشانہ فوجیوں کی گاڑی تھی کیونکہ یہ دھماکہ سکیورٹی فورسز کی گاڑی کی آمد کے ساتھ ہی کیا گیا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس کے علاوہ چھ گاڑیوں اور آٹھ موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کوئٹہ شہر میں دور دور تک سنی گئی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔