راولپنڈی خودکش حملہ، ہلاکتیں چوبیس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 08:00 GMT 13:00 PST

بدھ کی شب پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چوبیس ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد باسٹھ بتائی جا رہی ہے۔

راولپنڈی کے علاقے ڈھوک سیداں میں مصریال روڈ پر قریب ہی واقع امام بارگاہ کی جانب گامزن ماتمی جلوس پر یہ حملہ کیا گیا۔ سٹی پولیس چیف راولپنڈی اظہر حمید نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ملک میں گزشتہ روز کیے گئے تین شہروں راولپنڈی، کراچی اور بنوں میں مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بدھ کے روز ملک میں دہشتگردی کے چھ بڑے واقعات میں تیتیس افراد ہلاک اور کم از کم ستانوے افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں راولپنڈی، کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں بم دھماکے اور صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں اور شانگلہ میں پولیس پر حملے شامل ہیں۔

البتہ ملک میں محرم الحرام کے موقع پر ماتمی جلوس اور مجالس کا سلسلہ جاری ہیں تاہم ان حملوں کے پیشِ نظر ملک میں سیکورٹی انتظامات کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی حملے سے کچھ دیر پہلے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن پانچ نمبر میں واقع امام بارگاہ کے قریب وقفے وقفے سے دو بم دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین صحافیوں سمیت دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے پہلے دھماکے کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ حملہ موٹر سائیکل پر نصب ایک بم کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔ یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں اتوار کو رات گئے ایک امام بارگاہ کے قریب دھماکے میں دو افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہو گئے تھے۔

ادھر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور خاتون سمیت بائیس زخمی ہوگئے۔ فوجی ذرائع نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک فوجی گاڑی سکول کے بچوں کو لینے شہباز ٹاؤن سے چھاؤنی کی طرف جا رہی تھی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں اور شانگلہ میں پولیس پر دو مختلف حملوں میں ایک ایس ایچ او سمیت تین اہلکار ہلاک اور فرنٹئیر کونسٹیبلری کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق بنوں شہر سے دو کلومیٹر دور تھانہ جانی خیل کے علاقے میں پولیس کا قافلہ معمول کے گشت پر تھا کہ اس دوران طالبان کی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او اپیل خان سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اسی طرح ضلع شانگلہ کی تحصیل پورن کے تھانے مارتونگ میں بمقام سیڑے پر موڑ پولیس کی گاڑی سڑک کے بچھائی گئی ایک باردی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ اس حملے کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک سپاہی میاں جہانزیب شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں علاقے کے ایس ایچ او بھی شامل تھے۔

پاکستان میں اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کے آغاز پر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے تھے جن میں کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی اور موبائل فون سروس کو معطل کرنا شامل تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔