بنگلہ دیش سے معافی مانگی جائے یا نہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 15:55 GMT 20:55 PST

ڈی ایٹ اجلاس میں بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام کی غیرموجودگی کو محسوس کیا گیا۔

بنگلہ دیش کی علیٰحدگی کے دوران سنہ 1971 کے واقعات میں پاکستانی فوج پر مبینہ زیادتیوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔ تاہم اب تک پاکستان سرکاری سطح پر معافی مانگنے سے گریز کر رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہیں آ رہے۔

پاکستان میں آٹھ ترقیاتی ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس (ڈی ایٹ) کے لیے بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے شرکت سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ انہوں نے نجی مصروفیات بتائیں تاہم بعض لوگ زور دیتے ہیں ان کی وجہ پاکستان کا معافی نہ مانگنا ہے۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم کی غیر حاضری کے بعد ان کی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر دیپو مونی کی پاکستان آمد کا تذکرہ ہوا مگر پھر سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر گوہر رضوی اور سیکرٹری خارجہ محمد مجاریل قیس پہنچے۔

ڈی ایٹ کے بانی ہونے کے ناطے سے اس اجلاس میں بنگلہ دیش کی چھوٹی سطح پر شرکت کو میڈیا میں خاصا محسوس کیا گیا۔

تاہم دونوں ممالک سرکاری سطح پر اس معاملے کو معافی کے مسئلے سے وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے عہداروں کے پاس بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی غیرحاضری کی متضاد خبریں رہیں۔ تاہم بنگلہ دیشی سیکرٹری خارجہ نے تسلیم کیا کہ معذرت کا معاملہ غور طلب ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے معافی کے معاملے پر بنگلہ دیشی سیکرٹری خارجہ محمد مجاریل قیس نے کہ ’یہ ایک مسئلہ ہے اور ہم نے اپنی سوچ سے پاکستانی حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔‘

پاکستان میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش سے معافی مانگ لینی چاہیے۔ یہ مطالبہ سماجی حلقے کئی بار حکومت پاکستان سے کر چکے ہیں۔ اجلاس میں بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت کی عدم موجودگی پر میڈیا کے بعض افراد نے بھی اس مطالبے کو دہرایا۔

1971 میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان جنگ لڑی گئی جس کے بعد بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔

حال ہی میں اسلام آباد میں منعقدہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’دی ان فنشنڈ میموارز‘ (نامکمل آپ بیتی) کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی جس میں یہ رائے سامنے آئی ہے کہ پاکستان کو معافی مانگنی چاہیے۔

اس موقعے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی ٹی وی کے صحافی حامد میر نے کہا، ’حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے بنگالی عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ان لوگوں کو مارا گیا، خواتین کا ریپ کیا گیا اور اب یہ بات کتابوں میں آچکی ہے، فوجی جرنیلوں نے خود تسلیم کیا ہے اس لیے پاکستان کو سرکاری سطح پر بنگلہ دیش سے مغدرت کرنی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا ’پاکستان میں نوجوانوں کو یکطرفہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے جس کے مطابق شیخ مجیب الرحمٰن غدار ہیں۔ لیکن ہماری نوجوان نسل کویہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ ملک توڑنے والوں میں سے نہیں بلکہ پاکستان کو بنانے والوں میں سے ایک ہیں۔‘

بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق 1971 کی جنگ میں 30 لاکھ افراد مارے گئے۔ تاہم آزاد محققین کے مطابق اس تعداد میں بہت مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے اور اس کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔

"دو بھائی علیٰحدہ تو ہو چکے ہیں اس لیے کبھی دوبارہ اکٹھے تو نہیں ہوں گے مگر پاکستان کی جانب معافی سے کم ازکم قریبی دوست تو بن جائیں گے۔"

پاکستان میں مقیم بنگالی شہریوں کے زخم ابھی بھی ہرے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے معافی مانگنے سے باہمی تعلقات بہتر ہوں گے۔

اسلام آباد میں 34 برس سے مقیم اللہ دتا سموسوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ اٹھارہ برس کے تھے جب بنگلہ دیش اور پاکستان علیٰحدہ ہوئے۔ جنگ کا منظر بیان کرتے ہوئے وہ بہت افسردہ ہو کر بتانے لگے کہ کیسے وہ گولیوں سے بچتے بچاتے رات کے اندھیرے میں ڈھاکہ پہنچے۔ ان کے پاس نہ کچھ کھانے کو تھا نہ پہننے کو۔ جنگ کے ایک برس تک ان کے لیے زندگی نہایت دشوار رہی۔

انہوں کہا ’دو بھائی علیٰحدہ تو ہو چکے ہیں اس لیے کبھی دوبارہ اکٹھے تو نہیں ہوں گے مگر پاکستان کی جانب معافی سے کم ازکم قریبی دوست تو بن جائیں گے۔‘

تاہم پاکستان میں سرکاری سطح پر اس معاملے پر گرم جوشی نہیں دکھائی جا رہی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر بنگلہ دیش سے کئی بار افسوس کا اظہار کر چکا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔