شوگر ملز مالکان کا کرشنگ سےگریز، لاکھوں کسان پریشان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 17:29 GMT 22:29 PST

پاکستان میں شوگر ملز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیاں چینی برآمد کرنے اور دیگر مراعات کا معاملہ طے نہ پانے کی وجہ سے کرشنگ شروع نہیں ہوسکی اور لاکھوں کسان وقت پرگنا نہ بکنے اور آئندہ فصل کے لیے زمین فارغ نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس پونے چھبیس لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پرگنا کاشت ہوا اور پیداوار پانچ کروڑ تریپن ملین ٹن ریکارڈ ہوئی۔ لیکن ماہرین کے مطابق رواں سال گنے کی کاشت پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے۔

سندھ آباد کار بورڈ کے چیئرمین عبدالمجید نظامانی نے بی بی سی کو بتایا کہ قانون کے مطابق شوگر ملز والے سندھ میں اکتوبر کے آخری ہفتے اور دیگر علاقوں میں نومبر کی ابتدا میں کرشنگ شروع کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن ان کے بقول تاحال کرشنگ شروع نہیں ہوئی۔’ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ شوگر ملز بڑے بڑے سیاستدانوں کی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔‘

انیس سو سینتالیس میں مغربی پاکستان میں صرف دو شوگر ملز تھیں اور انیس سو پچپن میں تین مزید شوگر ملز لگیں۔ لیکن اس وقت ملک بھر میں چھیاسی شوگر ملز ہیں اور ان کی چینی کی مجموعی پیداوار کی گنجائش نوے لاکھ ٹن ہے۔ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت بیالیس لاکھ ٹن ہے اور چینی کی پیداوار کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔

مسٹر نظامانی کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر شوگر ملز لگانے کی اجازت دی جاتی ہے جو کہ بدقسمتی ہے۔ ان کے بقول شگر ملز والے من مانی کرتے ہیں اور اب بھی کاشتکاروں کے اربوں روپے کے بقایاجات ادا نہیں کیے جاتے۔ ’شوگر ملز والے حکومت سے کاشتکاروں کے نام پر مراعات تو لیتے ہیں لیکن کاشتکاروں کو خریدے گئے گنے کی قیمت دینے کو تیار نہیں۔‘

وزارت تجارت کی جانب سے تیار کردہ ایک دستاویز جو بی بی سی کے پاس ہے، میں بتایا گیا ہے کہ تیس جون سنہ دو ہزار بارہ کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کے اندر چھیالیس لاکھ ستر ہزار ٹن چینی پیدا ہوئی اور گزشتہ مالی سال کا سٹاک نو لاکھ ٹن بھی پڑا ہے۔ پاکستان کی سالانہ کھپت سے پندرہ لاکھ ٹن اضافی چینی ملک میں دستیاب ہے۔ حکومت نے تین لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی لیکن ملز والے ایک لاکھ تینتیس ہزار ٹن ہی برآمد کرسکے۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ عدالتی حکم پر آٹھ شوگر ملز سے حکومت نے دس ہزار ٹن چینی خریدی اور تیس ہزار ٹن تاجکستان کو بیچنے کی منظوری دی۔ رواں سال ستمبر تک شوگر ملز والوں نے تیس لاکھ اسی ہزار ٹن چینی مقامی مارکیٹ میں بیچی ہے۔

عبدالمجید نظامانی کہتے ہیں کہ کرشنگ شروع نہ ہونے کی شگر ملز والے دوسری بڑی وجہ حکومت کی جانب سے گنے کی کم از کم فی من قیمت ایک سو ستر روپے مقرر کرنا بتاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اجلاس میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا تھا کہ اگر حکومت ٹیکس میں انہیں چھوٹ نہیں دیتی اور چینی کی قیمت نہیں بڑھاتی تو ان کے لیے ایک سو تیس روپے فی من گنا خریدنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

لیکن اس بارے میں لاہور میں قائم ایگری فورم پاکستان نامی تنظیم کے چیئرمین محمد ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ شوگر ملز مالکان دوگنے منافع کے چکر میں کرشنگ میں جان بوجھ کر تاخیر کرتے ہیں۔ ’اگر نومبر کے پہلے ہفتے میں ایک سو کلو گرام گنے سے آٹھ کلو چینی پیدا ہوگی تو وہ دسمبر میں دس کلو اور جنوری میں گیارہ کلو چینی پیدا ہوگی اور اس چکر میں وہ ملز وقت پر نہیں چلاتے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ پیمانہ بنائے کہ فی ایک سو کلو گرام گنے میں جتنی چینی کی مقدار ہو اس اعتبار سے ادائیگی کی جائے۔ ان کے بقول اگر ایسا ہو تو ملز تاخیر سے چلانے کی ملز مالکان کی لالچ کی وجہ ختم ہوجائے گی اور وہ وقت پر چلائیں گے۔

سندھ آبادکار بورڈ کے چیئرمین مسٹر نظامانی کہتے ہیں کہ ملز کی تاخیر کی وجہ سے کسانوں کو دوگنا نقصان ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایک تو گنے کی فصل کو گندم کے حصے کا پانی دینا ہوگا اور دوسرا یہ کہ زمین دیر سے فارغ ہونے کی وجہ سے خریف کی فصل نہیں بوئی جاسکے گی۔

ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی زراعت پر جنرل سیلز ٹیکس نہیں لیکن پاکستان میں پچاس ارب روپے بیج، کھاد، ڈیزل اور بجلی کی مد میں کسان سے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ان کے بقول گنے کی کاشت پر گزشتہ برس کی نسبت اس سال سینتیس فیصد پیداواری قیمت بڑھ گئی ہے۔’ہمیں اتنا ٹیکس کی چھوٹ دیں جتنی بھارت کے کسان کو حاصل ہے تو ہم ایک سو بیس روپے فی من گنا دینے کو تیار ہیں۔‘

بی بی سی نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شنید قریشی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کامل مجیداللہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تا کہ ان کا موقف معلوم کیا جاسکے لیکن تین روز تک کوئی جواب نہیں ملا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔