تھر کے نامور ٹھاکر لچھمن سنگھ کا انڈیا میں انتقال

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 15:55 GMT 20:55 PST
لچھمن سنگھ سوڈھا

لچھمن سنگھ سوڈھا کو پاکستان کے خلاف جاسوی کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھر کی نامور شخصیت اور پاکستان کے سابق رکن اسمبلی ٹھاکر لچھمن سنگھ سوڈھا سرحد کے اس پار انتقال کر گئے ہیں، ان کی عمر بیاسی سال بتائی جاتی ہے۔

لچھمن سنگھ چھاچھرو کے رہائشی تھے، انیس سو ستر کی ایک رات کو اونٹوں پر اپنے اہل خانہ سمیت وہ سرحد سے ملحق بھارتی ریاست راجستھان چلے گئے تھے، صبح کو مقامی لوگوں نے دیکھا کہ ان کے گھر میں دیپ جل رہے تھے مگر کوئی موجود نہیں تھا۔ بعد میں ان کی بھارت روانگی کی خبر پھیلی۔

لچھمن سنگھ نے اپنا آبائی دیس کیوں چھوڑا تھا، اس کی تفصیلات کبھی سامنے نہیں آئیں مگر بعض حلقے اس کی وجہ پاکستان کی ایجنسیوں کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جانا بتاتے تھے۔

اس سے پہلے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دور میں لچھمن سنگھ مغربی پاکستان میں قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ اس سے پہلے ان کے والد لال جی انیس سو ترپن میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انیس سو چھتیس سے ان کے دادا اکھجی سوڈھو رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے تھے۔

لچھمن سنگھ نے راجستھان کے شہر باڑ میر کے قریب چھوٹن میں رہائش اختیار کی تھی جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ بھارتی شہریت ملنے کے بعد وہ وہاں کی پنچائت کے سربراہ بھی منتخب ہوئے۔

جودھ پور کے شاہی خاندان نے انہیں پالی ضلع کے علاقے بالی میں زرعی زمین الاٹ کی تھی، باقی زندگی انہوں نے وہیں گزاری، جہاں گزشتہ دن ان کا انتقال ہوگیا۔

انیس سو اکہتر کی پاکستان بھارت جنگ میں بھارتی فوج نے چھاچھرو سمیت تھر کا ایک بڑا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا، پاکستان کی حکومت نے اس وقت الزام عائد کیا تھا کہ لچھمن سنگھ نے بھارتی فورسز کی مدد کی ہے جس کے بعد انہیں جاسوس قرار دیا گیا اور ان کے سر پر دو لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا۔

بھارتی فوج کے ساتھ لچھمن سنگھ کو ایک نئے روپ میں دیکھا گیا تھا، جو زیادہ غصیلا، جذباتی اور انتقام پسند تھا۔ پاکستان کے نامور کمیونسٹ رہنما کامریڈ جام ساقی کے گاؤں جنجھی کا بھارتی رضاکار فورس نے گھیراؤ کیا اور مزاحمت میں تین مقامی لوگ مارے گئے۔

ایک اور۔۔۔

"پچھلے دنوں تھر کی ایک اور نامور شخصیت رام سنگھ سوڈھو اپنے خاندان سمیت راجستھان منتقل ہوگئے، وہ بھی موجودہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں، اس سے پہلے وہ صوبائی مشیر اور تھر پاکر کے نائب ناظم کے عہدے پر فائز رہے۔"

اس واقعے کے چشم دید گواہ ریٹائرڈ استاد محمد رحیم جنجھی بتاتے ہیں کہ اس رضاکار فورس کے سربراہ لچھمن سنگھ تھے، کامریڈ جام ساقی کے والد سچل جنجھی نے لچھمن سنگھ کے قدموں میں اپنی ٹوپی رکھ کر مزید لوگوں کی جان بخشی کرائی تھی۔

لچھمن سنگھ کے بھٹو خاندان سے بھی قریبی تعلقات تھے، سندھ کے شہر سانگھڑ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر جان لیوا حملہ ہوا تھا تو اس وقت لچھمن سنگھ کے بھائی کھمان سنگھ صوبیدار نے اس حملے کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔

شملہ معاہدے کے بعد جب بھارتی فوجیں واپس گئیں تو پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سابق رکن اسمبلی اور سندھ کے معززین رانا چندر سنگھ، میر علی بخش ٹالپور اور پیر غلام رسول شاھ کو انڈیا بھیجا تھا تا کہ وہ سندھ سے نقل مکانی کرکے بھارت جانے والوں کو واپس لائیں مگر لچھمن سنگھ سمیت اکثریت نے واپس آنے سے انکار کردیا تھا۔

تھر میں ٹھاکروں کا سوڈھا رہتا ہے، جن کی شان شوکت اور بہادری کے قصے کہانیاں مشہور ہیں، ان پر شاعری بھی کی گئی ہے جو آج بھی گائی جاتی ہے۔

تھر کے سوڈھا ٹھاکروں کے راجستھان کے ٹھاکروں سے صدیوں پرانے خاندانی مراسم ہیں۔ سوڈھا ٹھاکروں کی دلہنیں راجستھان سے لائی جاتی ہیں اور بیٹیوں کا بیاہ وہاں رچایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹھاکروں کی روایت کے مطابق اپنے ہی قبیلے میں شادی نہیں کی جاتی ۔

پچھلے دنوں تھر کی ایک اور نامور شخصیت رام سنگھ سوڈھو اپنے خاندان سمیت راجستھان منتقل ہوگئے، وہ بھی موجودہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں، اس سے پہلے وہ صوبائی مشیر اور تھر پاکر کے نائب ناظم کے عہدے پر فائز رہے۔

ٹائیمز آف انڈیا نے لچھمن سنگھ سوڈھا کے انتقال کی خبر کے ساتھ بتایا ہے کہ ممبئی واقعے کے ملزم اجمل قصاب کو پھانسی کی خبر پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا، انہیں اس مقدمے میں دلچسپی تھی وہ چاہتے تھے کہ اجمل کو پھانسی ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔