نو محرم کے جلوس اختتام پذیر، فون پر پابندی نرم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 18:29 GMT 23:29 PST

پاکستان میں سنیچر کی شام نو محرم کے جلوس اختتام پذیر ہونے کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک نے دس محرم کی صبح چھ بجے تک موبائیل فون پر پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں رات کو عمارت میں آتشگیر مادہ پھٹنے سے دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے میں فوری طور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر کے علاقے ڈیفنس چھ کے ایک فلیٹ کے کچھ مکین دھماکے کے بعد وہاں سے بھاگ گئے۔

نو محرم

سنیچر کی رات کو پاکستان بھر میں نو محرم کے جلوس اختتام پذیر ہو گئے۔ اس سے قبل صبح نو بج کر پچاس منٹ کے قریب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تھویا فاضل میں ہونے والے دھماکے میں آٹھ بچے ہلاک ہوئے جبکہ بیس افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم تھیں۔

ہلاک ہونے والوں بچوں میں سے دو بھائی طلحہ نواز اور محمد صادق شامل ہیں جن کا تعلق اہلسنت سے تھا اور وہ صرف سڑک پر کھڑے عزہ داروں کو دیکھ رہے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی پولیس کنٹرول روم سے سب انسپکٹر محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ کسی جلوس کے قریب نہیں ہوا بلکہ اس وقت ہوا جب کچھ لوگ اکٹھے ہو کر شہر میں مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔

محمد حنیف کے مطابق دھماکے کے لیے ایک پریشر ککر استعمال کیا گیا جسے ایک کوڑے کے ڈھیر میں چھپایا گیا تھا اور اس کو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔

زخمی ہونے والوں میں پولیس کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

محرم: حفاظتی انتظامات

وزیر داخلہ رحمان ملک نے سنیچر کی شام کو موبائل فون کے استعمال پر لگائی گئی پابندی اتوار کی صبح دس بجے تک نرم کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل انہوں نے جمعہ کو موبائل فون کے ساتھ پی ٹی سی ایل کی وائرلیس سروس بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں ایف 11 اور آئی 10 کے علاوہ شہر میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی ختم کر دی ہے۔

وزیر داخلہ نے جمعہ کو ان تمام شہروں کے نام پڑھ کر بھی سنائے تھے جہاں پابندیاں لگائی گئی تھیں جن میں پنجاب میں لاہور، ملتان، سرگودھا، اٹک، راولپنڈی، جھنگ، رحیم یار خان، فیصل آباد، مظفر گڑھ، بھکر، گوجرانوالا، ڈیرہ غازی خان، پاک پتن، ننکانہ صاحب شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں روالاکوٹ، مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھنبر اور وادی نیلم کے علاقوں میں موبائل فون سروس بند رہے گی۔

بلوچستان میں کوئٹہ، قلات، خضدار، تربت، گوادر، پنجگور، مستونگ، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور حب میں موبائل فون سروس بند رہے گی۔

سندھ میں لاڑکانہ، خیر پور، سکھر، نوشہروفیروز، حیدرآباد اور کراچی میں موبائل فون سروس معطل رہے گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور، چارسدہ، ٹانک، ہرپور، پارہ چنار، کرم ایجنسی، مانسہرہ، نوشہرہ، مردان، کوہاٹ، ہنگو، بنوں اور میرپور میں بھی موبائل فون سروس بند رہے گی۔

اسی طرح گلگت میں بھی موبائل فون سروس معطل رہے گی۔ تاہم اب یہ پابندی اتوار کی صبح چھ بجے تک اٹھا دی گئی ہے۔

اخبار فروشوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سنیچر اور اتوار کو اخبارات صبح چھ بجے سے لے کر دس بجے کے درمیان تقسیم کر لیں اور اس کے بعد انہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی۔





ملک کے بعض علاقوں میں حفاظتی نقطۂ نظر سے فوج بھی تعینات کی گئی ہے اور باقی علاقوں میں ضرورت پڑنے پر فوج طلب کی جا سکتی ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق کمشنر کوہاٹ نے ہنگو اور کرم ایجنسی میں فوج تعینات کر دی ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے خبردار کیا تھا کہ ان کی وزارت کو اطلاع ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی محرم کے جلوس کے اختتام پر کی جانے کی اطلاعات ہیں جب لوگ منتشر ہو رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ محرم کے دوران ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا گیا۔ انہوں نے کہا ’اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کا خطرہ ہے‘۔

وزیرِ داخلہ نے جمعہ کو بتایا تھا کہ ملک بھر سے وی آئی پی ڈیوٹی کے لیے استعمال ہونے والے جیمرز کو واپس لا کر حفاظتی اقدامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ضرورت کے تحت چند علاقوں میں ’تھورایا‘ سیٹلائٹ فون سروس کو بھی بند کیا جائے گا۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ محرم الحرام کے حوالے سے بارہ حساس مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جبکہ تین ہزار سکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔ صوبے کے چھ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

پشاور میں سنیچر کو اندرون شہر کے اہم علاقے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے تھے۔ ان علاقوں میں قصہ خوانی بازار ، کوہاٹی بازار ، چوک یادگار اور گنج کے علاقے شامل ہیں۔ اندروں شہر داخل ہونے والے راستے رکاوٹیں کھڑی کر کےاور خار دار تاریں لگا کر سیل کیے گئے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پہلی مرتبہ جلوس کی نگرانی کرنے والے کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور شہر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر کے بارہ حساس مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں اور شہر میں تقریباً تین ہزار اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔


پاکستان میں پابندیاں

پاکستان میں موبائل فون اور پی ٹی سی ایل کی وائر لیس سروس بے شک بند ہے مگر انٹرنیٹ کی سہولت ابھی تک کافی بہتر حالت میں مہیا ہے اور اس پر اظہار رائے کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت مختلف طریقوں سے اس پر بھی مختلف قسم کی قدغنیں لگاتی رہتی ہے اور اس وقت بھی کئی ویب سائٹوں تک رسائی کی بندش ہے۔

پاکستان اور بیرون ملک سے مختلف لوگ موبائل فون اور دوسری بندشوں پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔

ان تبصروں میں ملا جلا رجحان ہے جس میں بہت سارے لوگوں نے ان بندشوں کی حمایت کی ہے اور امن کی خاطر اسے قربانی قرار دے کر اسے جائز قرار دیا ہے۔

تو دوسری جانب کئی افراد کا خیال ہے کہ بندشوں کا آغاز کوئی اچھا شگون نہیں اور یہ بات اب کہاں جا کر رکے گی؟

رضا دوتانی نے بی بی سی کے فیس بک کے صفحے پر لکھا ’موبائل سروس بند، گیس بند، بجلی بند، بازار بند، لیکن دھماکے نہیں بند ہو رہے ہیں۔‘

انجئیر مجاہد خان نے فیس بک پر لکھ کر کئی کے جذبات کی ترجمانی کی کہ ’موبائل فون بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے‘۔

سکندر نادر کا خیال تھا کہ ایک دو روز کی بندش کوئی بڑی بات نہیں ہے اور عارف اقبال نے لکھا ’اگر موبائل بند کرنے سے زندگیاں بچ سکتی ہیں تو زندگی موبائل فون سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے نا۔‘

جہاں سید فرخ نے لکھا کہ یہ کوئی حل نہیں ہے تو عبدالسلام خلیفہ کا خیال تھا کہ ’لگتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے پاس تمام مسائل کے لیے صرف ایک حل ہے۔ جس کا اصل مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔’

اس ساری بحث میں وزیر داخلہ رحمان ملک خاص طور پر اور حکومت عمومی طور پر تنقید کا نشانہ بنے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومتی وزرا کو آڑے ہاتھوں لینے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔

محمد مبشر حسین نے جیسا کہ لکھا ’امید ہے اب حکومت ہوا بند نہیں کرے گی۔‘

اسامہ زوہیب میمن نے لکھا ’موبائل فون سروس بند کرنے یا ڈبل سواری پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوگا حکومت اگر چاہے تو دو دن میں دہشت گردی ختم کر سکتی ہے۔‘

لودھراں سے مقبول خان کا خیال تھا کہ دھماکوں کی خبروں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گرد ایک دھماکہ کر کے اس کو تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سہیل میمن کچھ طنز کے موڈ میں تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’بھئی ہمارا ملک ہے ہم جو چاہے بند کریں بجلی یا فون ہماری مرضی۔‘

اسی طرح عبید عثمانی نے ٹویٹ کی کہ ’ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کا نظام جام کردیا گیا ہے۔ ایک طرف کاروبار بند تو دوسری طرف سیکورٹی کے نام پرمعیشت کاجنازہ نکال دیاگیاہے۔‘

عبداللہ سعید نے ٹوئٹر پر وزیر داخلہ کی پیش کردہ توجیح پر چوٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ بقول وزیر داخلہ صاحب کے پہلے بھی موبائل فون کے بغیر کام ہوتا تھا۔۔ جی ہاں کیوں نہیں، پہلے لوگ جنگلوں اور غاروں میں بھی رہتے تھے۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔