پاکستان: سخت حفاظتی انتظامات میں یومِ عاشور

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 10:51 GMT 15:51 PST

پاکستان میں سخت سکیورٹی انتظامات میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت سے منایا گیا اور ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس نکلے۔

یوم عاشور کے موقع پر ملک کے پچاس شہروں میں موبائل فون پر پابندی اور چار شہروں میں موٹر سائیکل سواری پر پابندی رہی۔ چند شہروں میں فوج نے پولیس کے ساتھ حفاظتی انتظامات میں معاونت کی۔

یومِ عاشور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے مین بازار میں عاشورہ کے جلوس کے قریب ہونے والے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور بیاسی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں تین فرنٹئیر کانسٹیبلری کے جوان اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مرکزی کنٹرول روم سے سب انسپکٹر محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس آنے والی اطلاعات کے مطابق دھماکہ مسگراں بازار اور محلہ مجاہد نگر کے سامنے ایک سائیکلوں کی دکان کے اندر ہوا۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ کسی دکان میں بارودی مواد رکھا گیا تھا جو جلوس کے گزرنے کے وقت پھٹ گیا۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک جلوس دیوالہ اور استرانہ کے نواحی علاقوں سے مرکزی جلوس میں شامل ہونے کے لیے شہر میں داخل ہو رہا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اتوار کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دھماکے کی زمہ داری قبول کی۔ تاہم انہوں نے اس بات کا انکار کیا کہ کل ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے حملے میں ان کی تنظیم کا ہاتھ تھا۔

پاکستان کے باقی علاقوں میں عاشورہ کے جلوس اتوار کی صبح کے وقت اپنے معینہ راستوں پر نکلے اور اپنی منزلوں پر اختتام پذیر ہو گئے۔

حفاظتی نقطۂ نظر سے ملک میں سکیورٹی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور موبائل فون اور وائرلیس ٹیلیفون سروس کئی شہروں میں بند رہی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں موٹر سائیکل سواری پر سے پابندی ہٹا لی گئی ہے جبکہ باقی چند شہروں میں یہ پابندی برقرار رہے گی۔

ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے

سنیچر کی شام کو وزیر داخلہ رحمان ملک نے موبائل فون اور وائرلیس فون سروس پر سے پابندی اٹھا لی تھی جو کہ اتوار کی صبح سے پھر لگا دی گئی۔

سنیچر کو صبح نو بج کر پچاس منٹ کے قریب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تھویا فاضل میں ہونے والے دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ بیس افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے سات بچے تھے جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق اہلسنت سے تھا جن میں دو بھائی طلحہ نواز اور محمد صادق بھی شامل ہیں اور یہ سب صرف سڑک پر کھڑے عزا داروں کو دیکھ رہے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی پولیس کنٹرول روم سے سب انسپکٹر محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ کسی جلوس کے قریب نہیں ہوا بلکہ اس وقت ہوا جب کچھ لوگ اکٹھے ہو کر شہر میں مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔


محرم: حفاظتی انتظامات

وزیر داخلہ رحمان ملک نے نو محرم اور یوم عاشور کے موقع پر موبائل فون کے ساتھ پی ٹی سی ایل کی وائرلیس سروس بھی معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے جمعہ کو ان تمام شہروں کے نام پڑھ کر بھی سنائے تھے جہاں پابندیاں لگائی گئی تھیں جن میں پنجاب میں لاہور، ملتان، سرگودھا، اٹک، راولپنڈی، جھنگ، رحیم یار خان، فیصل آباد، مظفر گڑھ، بھکر، گوجرانوالا، ڈیرہ غازی خان، پاک پتن، ننکانہ صاحب شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں روالاکوٹ، مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھنبر اور وادی نیلم کے علاقوں میں موبائل فون سروس بند رہی۔

بلوچستان میں کوئٹہ، قلات، خضدار، تربت، گوادر، پنجگور، مستونگ، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور حب میں موبائل فون سروس بند رہی۔

سندھ میں لاڑکانہ، خیر پور، سکھر، نوشہروفیروز، حیدرآباد اور کراچی میں موبائل فون سروس معطل رہی۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور، چارسدہ، ٹانک، ہرپور، پارہ چنار، کرم ایجنسی، مانسہرہ، نوشہرہ، مردان، کوہاٹ، ہنگو، بنوں اور میرپور میں بھی موبائل فون سروس بند تھی۔

اسی طرح گلگت میں بھی موبائل فون سروس معطل رہے گی۔ تاہم اب یہ پابندی اتوار کی صبح چھ بجے تک اٹھا دی گئی۔

اخبار فروشوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سنیچر اور اتوار کو اخبارات صبح چھ بجے سے لے کر دس بجے کے درمیان تقسیم کر لیں اور اس کے بعد انہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی۔

ملک کے بعض علاقوں میں حفاظتی نقطۂ نظر سے فوج بھی تعینات کی گئی۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق کمشنر کوہاٹ نے ہنگو اور کرم ایجنسی میں فوج تعینات کی گئی۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے خبردار کیا تھا کہ ان کی وزارت کو اطلاع ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی محرم کے جلوس کے اختتام پر کی جانے کی اطلاعات ہیں جب لوگ منتشر ہو رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ محرم کے دوران ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا گیا۔ انہوں نے کہا ’اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کا خطرہ ہے‘۔

وزیرِ داخلہ نے جمعہ کو بتایا تھا کہ ملک بھر سے وی آئی پی ڈیوٹی کے لیے استعمال ہونے والے جیمرز کو واپس لا کر حفاظتی اقدامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ضرورت کے تحت چند علاقوں میں ’تھورایا‘ سیٹلائٹ فون سروس کو بھی بند کیا جائے گا۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ محرم الحرام کے حوالے سے بارہ حساس مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں جبکہ تین ہزار سکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔ صوبے کے چھ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

پشاور میں سنیچر کو اندرون شہر کے اہم علاقے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے تھے۔ ان علاقوں میں قصہ خوانی بازار ، کوہاٹی بازار ، چوک یادگار اور گنج کے علاقے شامل ہیں۔ اندروں شہر داخل ہونے والے راستے رکاوٹیں کھڑی کر کےاور خار دار تاریں لگا کر سیل کیے گئے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پہلی مرتبہ جلوس کی نگرانی کرنے والے کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور شہر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر کے بارہ حساس مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں اور شہر میں تقریباً تین ہزار اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔

پاکستان میں پابندیاں

پاکستان میں موبائل فون اور پی ٹی سی ایل کی وائر لیس سروس بے شک بند ہے مگر انٹرنیٹ کی سہولت ابھی تک کافی بہتر حالت میں مہیا ہے اور اس پر اظہار رائے کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت مختلف طریقوں سے اس پر بھی مختلف قسم کی قدغنیں لگاتی رہتی ہے اور اس وقت بھی کئی ویب سائٹوں تک رسائی کی بندش ہے۔

پاکستان اور بیرون ملک سے مختلف لوگ موبائل فون اور دوسری بندشوں پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔

ان تبصروں میں ملا جلا رجحان ہے جس میں بہت سارے لوگوں نے ان بندشوں کی حمایت کی ہے اور امن کی خاطر اسے قربانی قرار دے کر اسے جائز قرار دیا ہے۔

تو دوسری جانب کئی افراد کا خیال ہے کہ بندشوں کا آغاز کوئی اچھا شگون نہیں اور یہ بات اب کہاں جا کر رکے گی؟

رضا دوتانی نے بی بی سی کے فیس بک کے صفحے پر لکھا ’موبائل سروس بند، گیس بند، بجلی بند، بازار بند، لیکن دھماکے نہیں بند ہو رہے ہیں۔‘

انجئیر مجاہد خان نے فیس بک پر لکھ کر کئی کے جذبات کی ترجمانی کی کہ ’موبائل فون بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے‘۔

سکندر نادر کا خیال تھا کہ ایک دو روز کی بندش کوئی بڑی بات نہیں ہے اور عارف اقبال نے لکھا ’اگر موبائل بند کرنے سے زندگیاں بچ سکتی ہیں تو زندگی موبائل فون سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے نا۔‘

جہاں سید فرخ نے لکھا کہ یہ کوئی حل نہیں ہے تو عبدالسلام خلیفہ کا خیال تھا کہ ’لگتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے پاس تمام مسائل کے لیے صرف ایک حل ہے۔ جس کا اصل مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔’

اس ساری بحث میں وزیر داخلہ رحمان ملک خاص طور پر اور حکومت عمومی طور پر تنقید کا نشانہ بنے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومتی وزرا کو آڑے ہاتھوں لینے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔

محمد مبشر حسین نے جیسا کہ لکھا ’امید ہے اب حکومت ہوا بند نہیں کرے گی۔‘

اسامہ زوہیب میمن نے لکھا ’موبائل فون سروس بند کرنے یا ڈبل سواری پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوگا حکومت اگر چاہے تو دو دن میں دہشت گردی ختم کر سکتی ہے۔‘

لودھراں سے مقبول خان کا خیال تھا کہ دھماکوں کی خبروں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گرد ایک دھماکہ کر کے اس کو تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سہیل میمن کچھ طنز کے موڈ میں تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’بھئی ہمارا ملک ہے ہم جو چاہے بند کریں بجلی یا فون ہماری مرضی۔‘

اسی طرح عبید عثمانی نے ٹویٹ کی کہ ’ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کا نظام جام کردیا گیا ہے۔ ایک طرف کاروبار بند تو دوسری طرف سیکورٹی کے نام پرمعیشت کاجنازہ نکال دیاگیاہے۔‘

عبداللہ سعید نے ٹوئٹر پر وزیر داخلہ کی پیش کردہ توجیح پر چوٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ بقول وزیر داخلہ صاحب کے پہلے بھی موبائل فون کے بغیر کام ہوتا تھا۔۔ جی ہاں کیوں نہیں، پہلے لوگ جنگلوں اور غاروں میں بھی رہتے تھے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔